سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
219. بَابُ رَسَائِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعْوَتِهِ
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور دعوت کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2479 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3656
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَاحِبِ الرُّومِ:" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ! إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى الإِسْلامِ، فَإِنْ أَسْلَمْتَ فَلَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَتُخَلِّ عَنِ الْفَلاحِينَ، فَلْيُسْلِمُوا أَوْ يُؤَدُّوا الْجِزْيَةَ"، فَلَمَّا أَتَاهُ الْكِتَابُ، قَرَأَهُ، فَقَامَ أَخٌ لَهُ، فَقَالَ: لا تَقْرَأْ هَذَا الْكِتَابَ، بَدَأَ بِنَفْسِهِ قَبْلَكَ، وَلَمْ يُسَمِّكَ مَلِكًا، وَجَعَلَهُ صَاحِبَ الرُّومِ، قَالَ: كَذَبْتَ، أَنْ يَكُونَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ، فَهُوَ كَتَبَ إِلَيَّ، وَإِنْ كَانَ سَمَّانِي صَاحِبَ الرُّومِ فَأَنَا صَاحِبُ الرُّومِ، لَيْسَ لَهُمْ صَاحِبٌ غَيْرِي، فَجَعَلَ يَقْرَأُ الْكِتَابَ وَهُوَ يَعْرَقُ جَبِينُهُ مِنْ كَرْبِ الْكِتَابِ، وَفِي شِدَّةِ الْقُرِّ، فَقَالَ: مَنْ يَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ؟ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: مِنْ أَوْسَطِنَا نَسَبًا، قَالَ: فَأَيْنَ دَارُهُ مِنْ قَرْيَتِكُمْ؟ قَالُوا: فِي وَسَطِ قَرْيَتِنَا، قَالَ: هَذِهِ مِنْ آيَاتِهِ، قَالَ: هَلْ يَأْتِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، وَيَأْتِيهِمْ مِنْكُمْ أَحَدٌ، قُلْتُ: يَأْتِيهِمْ مِنَّا، وَلا يَأْتِينَا مِنْهُمْ، قَالَ: هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَظَهَرْتُمْ عَلَيْهِمْ، أَوْ ظَهَرُوا عَلَيْكُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا، قَالَ: وَهَذِهِ مِنْ آيَاتِهِ، قَالَ: قُلْتُ: أَلا تَسْمَعُ أَنَّهُ يَقُولُ: سَيَظْهَرُ عَلَى الأَرْضِ كُلِّهَا، قَالَ: إِنْ كَانَ هُوَ لَيَظْهَرَنَّ عَلَى الأَرْضِ حَتَّى يَظْهَرَ عَلَى مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ هُوَ لَمَشَيْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أُقَبِّلَ رَأْسَهُ، وَأَغْسِلَ قَدَمَيْهِ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّهُ لأَوَّلُ يَوْمٍ رُعِبْتُ مِنْ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: هَذَا فِي سُلْطَانِهِ، وَمُلْكِهِ، وَحُصُونِهِ، يَتَحَادَرُ جَبِينُهُ عَرَقًا مِنْ كَرْبِ الصَّحِيفَةِ، فَمَا زِلْتُ مَرْعُوبًا مِنْ مُحَمَّدٍ حَتَّى أَسْلَمْتُ، وَفِي الرِّسَالَةِ: يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ، وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونِ، قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ، وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ، وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ، وَكَانَ لِلرُّومِ أَسْقَفٌّ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ بَغَاطِرُ عَلَى بِيَعَةٍ لَهُمْ، يُصَلِّي فِيهَا مُلُوكُهُمْ، فَلَقِيَ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اكْتُبُوا لِي سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَتَبُوا لَهُ سُورَةً، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي نَعْرِفُ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَسْلَمَ وَأَسَرَّ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحَدِ تَمَارَضَ فَلَمْ يَأْتِ بِيَعَتَهُمْ، فَلَمَّا كَانَ الأَحَدُ الآخَرُ، لَمْ يَجِئْ، فَقِيلَ: لَيْسَ بِهِ مَرَضٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: لَتَجِيئَنَّ أَوْ لَتُحْمَلَنَّ، فَجَاءَ يَمْشِي، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ؟ فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ اللَّهِ، وَأَمْرُ اللَّهِ، وَنَعْتُ الْمَسِيحِ، وَهُوَ الدِّينُ الَّذِي نَعْرِفُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، لَوْ أَقُولُ هَذَا لَقَتَلَتْنِي الرُّومُ، قَالَ: لَكِنِّي أَنَا أَقُولُهُ، قَالَ: أَمَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: فَأَخَذُوهُ حِينَ تَكَلَّمَ بِذَلِكَ فَمَا زَالُوا يُعَذِّبُونَهُ حَتَّى يَنْزِعُوا الضِّلَعَ مِنْ أَضْلاعِهِ بِالْكُلْيَتَيْنِ، فَأَبَى أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ حَتَّى قَتَلُوهُ وَحَرَقُوهُ .
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ہرقل کو خط لکھا: ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل بادشاہ روم کے نام۔ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اگر تم اسلام لے آؤ تو تمہارے لیے مسلمانوں کے حقوق اور ذمہ داریاں ہوں گی، اور اگر تم انکار کرو تو فلاحین کو چھوڑ دو کہ وہ مسلمان ہو جائیں یا جزیہ دیں۔“ جب ہرقل کے پاس خط پہنچا، اس نے اسے پڑھا، تو اس کا بھائی کھڑا ہوا اور کہا: ”یہ خط نہ پڑھو، اس نے تم پر خود کو مقدم کیا ہے، تمہیں بادشاہ نہیں کہا، بلکہ روم کا صاحب کہا۔“ ہرقل نے کہا: ”تم جھوٹ بولتے ہو، اگر اس نے اپنے نام سے ابتدا کی ہے تو وہی ہے جس نے مجھے خط لکھا، اور اگر مجھے صاحب روم کہا ہے تو میں واقعی روم کا صاحب ہوں، ان کا میرے سوا کوئی حاکم نہیں۔“ پھر وہ خط پڑھنے لگا اور شدت خوف سے اس کے ماتھے پر پسینہ جاری ہو گیا، حالانکہ سخت سردی کا موسم تھا۔ اس نے کہا: ”کون اس شخص کو جانتا ہے؟“ تو اس نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ پوچھا: ”کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟“ ابو سفیان نے کہا: ”ہاں۔“ پوچھا: ”اس کا نسب تمہارے درمیان کیسا ہے؟“ کہا: ”ہمارے درمیان سب سے اعلیٰ نسب والا ہے۔“ پوچھا: ”اس کا گھر تمہارے قریہ میں کہاں ہے؟“ کہا: ”ہمارے قریہ کے وسط میں۔“ تو ہرقل نے کہا: ”یہ اس کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے۔“ پھر پوچھا: ”کیا تمہارے کچھ لوگ اس کے پاس آتے ہیں اور کچھ اس کے پاس سے تمہارے پاس آتے ہیں؟“ کہا: ”ہمارے لوگ اس کے پاس جاتے ہیں، وہ ہمارے پاس نہیں آتے۔“ پوچھا: ”کیا تم نے اس سے قتال کیا ہے؟“ کہا: ”ہاں۔“ پوچھا: ”کون غالب آیا؟“ کہا: ”وہ ہم پر غالب آئے۔“ کہا: ”یہ بھی اس کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے۔“ پھر ابو سفیان نے کہا: ”کیا تم سنتے نہیں کہ وہ کہتا ہے کہ ساری زمین پر غالب آ جائے گا؟“ ہرقل نے کہا: ”اگر وہ واقعی ہے تو وہ ضرور زمین پر غالب آ کر رہے گا، یہاں تک کہ اس کے قدموں تلے جو کچھ ہے، اس پر بھی۔ اور اگر مجھے یقین ہو جاتا کہ وہی ہے تو من خود چل کر جاتا اور اس کے قدم چومتا۔“ ابو سفیان کہتے ہیں: ”یہ وہ پہلا دن تھا جب مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب محسوس ہوا۔“ کہتے ہیں: ”یہ شخص اپنے تخت پر، اپنی سلطنت میں، اپنے قلعوں میں بیٹھا ہوا تھا اور صرف خط پڑھ کر اس کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ اسی دن سے میں ان سے ڈرتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی۔“ اور اس خط میں یہ آیات تھیں: «يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ» اور: «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ» اور: «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ» پھر روم کے ایک بشپ بغاطر نے، جو ان کا بادشاہوں کا مصلی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ سے ملاقات کی اور کہا: ”میرے لیے قرآن کی کوئی سورت لکھو۔“ تو صحابہ نے ایک سورت لکھ کر دی۔ جب اس نے اسے پڑھا تو کہا: ”یہی اللہ کی کتاب ہے جسے ہم پہچانتے ہیں۔“ چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا مگر اپنے اسلام کو چھپایا۔ اتوار کے دن وہ اپنی عبادت گاہ میں نہ گیا، پھر دوسرے اتوار بھی نہ آیا۔ جب اس سے کہا گیا: ”تمہیں کوئی بیماری تو نہیں؟“ تو بادشاہ نے اسے بلوایا اور کہا: ”ضرور آؤ، یا پھر زبردستی لایا جائے گا۔“ جب وہ آیا تو بادشاہ نے کہا: ”کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: ”یہ اللہ کی کتاب اور اللہ کا حکم ہے، اور مسیح کی وہی صفت ہے جسے ہم جانتے ہیں۔“ بادشاہ نے کہا: ”افسوس، اگر میں یہ کہہ دوں تو روم کے لوگ مجھے قتل کر دیں گے۔“ تو بغاطر نے کہا: ”لیکن میں یہ کہتا ہوں۔“ پھر جب اس نے یہ بات کی تو لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور اس پر سخت تشدد کیا، یہاں تک کہ اس کے جسم سے اس کی پسلیاں نکال لیں، مگر وہ اپنے دین سے نہیں پھرے یہاں تک کہ اسے قتل کر کے جلا دیا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3656]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2479، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4284»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2480 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3657
نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ، إِلَى قَيْصَرَ أَنْ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِلَى قَوْلِهِ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 64"، وَكَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَالنَّجَاشِيِّ بِهَذِهِ الآيَةِ، فَأَمَّا كِسْرَى، فَمَزَّقَ كِتَابَ اللَّهِ، وَلَمْ يَنْظُرْ فِيهِ، فَقَالَ:" مُزِّقَ وَمُزِّقَتْ أُمَّتُهُ". وَأَمَّا قَيْصَرُ! فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذَا كِتَابٌ لَمْ أَسْمَعْهُ بَعْدَ سُلَيْمَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا أَبَا سُفْيَانَ، وَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، وَكَانَا تَاجِرَيْنِ هُنَاكَ، فَسَأَلَهُمَا عَنْ بَعْضِ شَأْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي لَيَمْلِكَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَهُمْ مِلَّةً". وَأَمَّا النَّجَاشِيُّ، فَأَرْسَلَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِكِتَابِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتْرُكُوهُمْ مَا تَرَكَكُمْ" .
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھا: ”محمد رسول اللہ کی طرف سے قیصر کے نام۔ خط میں یہ آیت درج تھی: «تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ» [آل عمران: 64] یعنی آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے، آیت کے آخر تک: «مُسْلِمُونَ» [آل عمران: 64] یعنی کہ ہم مسلمان ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت کسریٰ اور نجاشی کو بھی لکھ کر بھیجی۔ چنانچہ جب کسریٰ کو خط پہنچا، تو اس نے اللہ کا خط چاک کر ڈالا اور اس پر نظر بھی نہ ڈالی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چونکہ اس نے اللہ کے خط کو چاک کیا، اللہ اس کی سلطنت کو چاک کر دے۔“ جبکہ قیصر نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا تو کہا: ”یہ وہی خط ہے جیسا کہ حضرت سلیمان نبی علیہ السلام کے بعد میں نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔“ پھر قیصر نے ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوالات کیے۔ دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبریں بیان کیں۔ تب قیصر نے کہا: ”میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں! ضرور یہ شخص میری زمین کے نیچے کے حصے پر بھی حکومت کرے گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ان کا بھی ایک دین ہے۔“ اور جب نجاشی کو خط ملا تو اس نے وہ خط لے کر اپنے پاس موجود صحابہ کو بلایا اور ان سے کہا: ”جاؤ، اور اپنے نبی کو ان کا پیغام دے دو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: ”ان کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3657]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2480، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37782»
وضاحت: سعید بن المسیب کی مرسل روایت اقوی المراسيل میں سے ہے، جیسا کہ امام شافعی اور امام احمد وغیرہ نے وضاحت کی ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2481 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3658
نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلا، فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، فَأَتَوَا النَّجَاشِيَّ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ، فَلَمَّا دَخَلا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالا لَهُ: إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا، قَالَ: فَأَيْنَ هُمْ؟ قَالا: هُمْ فِي أَرْضِكَ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ , فَاتَّبَعُوهُ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ لا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ؟ قَالَ: إِنَّا لا نَسْجُدُ إِلا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ فِينَا رَسُولا،" وَأَمَرَنَا أَنْ لا نَسْجُدَ إِلا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ"، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ، قَالُوا: نَقُولُ: هُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ، قَالُوا: هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا بَشَرٌ وَلَمْ يَفْرِضْهَا وَلَدٌ، قَالَ: فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ وَالْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ! وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى مَا نَقُولُ فِيهِ مَا يَسْوَى هَذَا، مَرْحَبًا بِكُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ الَّذِي نَجِدُهُ فِي الإِنْجِيلِ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَانْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ، وَاللَّهِ لَوْلا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لأَتَيْتُهُ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ، وَأُوَضِّئُهُ، وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الآخَرِينَ فَرُدَّتْ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کے پاس بھیجا، ہم تقریباً اسی آدمی تھے، جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن عرفطہ، سیدنا عثمان بن مظعون، اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ہم نجاشی کے پاس پہنچے۔ قریش نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور عمارہ بن ولید کو ہدیہ دے کر بھیجا۔ جب وہ دونوں نجاشی کے پاس پہنچے تو اس کے سامنے سجدہ کیا اور پھر اس کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ پھر کہنے لگے: ”ہمارے کچھ قبیلے کے لوگ آپ کی سرزمین میں آ گئے ہیں، انہوں نے ہمارا دین چھوڑ دیا ہے۔“ نجاشی نے پوچھا: ”وہ کہاں ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”آپ کی سرزمین میں ہیں۔“ تو نجاشی نے ان کو بلوایا۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آج میں تمہاری طرف سے بات کروں گا۔“ چنانچہ سب ان کے پیچھے چلے۔ سیدنا جعفر نے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا۔ نجاشی کے درباریوں نے کہا: ”تم نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہم اللہ عزوجل کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔“ پوچھا گیا: ”ایسا کیوں؟“ کہا: ”اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان ایک رسول مبعوث فرمایا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کو سجدہ کریں اور نماز و زکوٰۃ ادا کریں۔“ اس پر عمرو بن عاص نے کہا: ”یہ لوگ عیسیٰ ابن مریم اور ان کی والدہ کے بارے میں آپ کی رائے کے خلاف رائے رکھتے ہیں۔“ نجاشی نے ان سے پوچھا: ”تم عیسیٰ اور مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ تو انہوں نے کہا: ”ہم وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، جو اس نے مریم، عذراء، پاکیزہ عورت، پر ڈال دی، جسے نہ کسی بشر نے چھوا، نہ وہ کسی سے حاملہ ہوئی۔“ یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: ”اے اہل حبشہ، اے پادریوں اور راہبوں! اللہ کی قسم، یہ لوگ جو عیسیٰ کے بارے میں کہتے ہیں، وہ اس تنکے کے برابر بھی ہم سے مختلف نہیں۔“ پھر کہا: ”تم پر خوش آمدید ہو اور اس ہستی پر بھی جس کی طرف سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، وہی جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں، اور وہی جن کی بشارت سیدنا عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی۔ تم جہاں چاہو رہو۔ اللہ کی قسم، اگر مجھے بادشاہت کی مصلحت نہ ہوتی تو میں خود جا کر ان کی خدمت کرتا، ان کی جوتیاں اٹھاتا اور ان کے وضو کا پانی فراہم کرتا۔“ پھر اس نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کی ہدیہ لوٹا دی۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جلدی وطن واپس آ گئے اور بدر میں شریک ہوئے۔ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ان کی وفات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3658]
تخریج الحدیث: «إسنادہ حسن، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 4268، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2481، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3990، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4486، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 344، والبزار فى «مسنده» برقم: 1761»
وله شواهد من حديث أبي هريرة الدوسي، فأما حديث أبي هريرة الدوسي، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1245، 1318، 1327، 1333، 3880، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 951»
وله شواهد من حديث أبي هريرة الدوسي، فأما حديث أبي هريرة الدوسي، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1245، 1318، 1327، 1333، 3880، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 951»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2482 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3659
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَقْرَأَنِي ابْنُ بُقَيْلَةَ صَاحِبُ الْحِيرَةِ كِتَابًا مِثْلَ هَذَا، يَعْنِي طُولَ الْكَفِّ،" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى مَرَازِبَةِ فَارِسَ! سَلامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَا بَعْدُ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَ مُلْكَكُمْ، وَوَهَّنَ كَيْدَكُمْ، وَفَرَّقَ جَمْعَكُمْ، وَفَضَّ خِدْمَتَكُمْ، فَاعْتَقِدُوا مِنِّيَ الذِّمَّةَ، وَأَدُّوا إِلَيَّ الْجِزْيَةَ، وَذَكَرَ الرَّهْنَ بِشَيْءٍ، وَإِلا وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ لآتِيَنَّكُمْ بِقَوْمٍ يُحِبُّونَ الْمَوْتَ كَمَا تُحِبُّونَ الْحَيَاةَ" .
سیدنا شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن بقیلہ نے، جو حیرہ کے رہنے والے تھے، ایک خط پڑھ کر سنایا، خط کی جسامت ہتھیلی کے برابر تھی، اس میں لکھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل فارس کے رئیسوں کے نام۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے تمہاری بادشاہت چھین لی، تمہاری تدبیریں کمزور کر دیں، تمہاری جماعت کو پراگندہ کر دیا، اور تمہاری خدمت کو توڑ دیا۔ پس مجھ سے ذمہ لے لو اور جزیہ ادا کرو، اور فلاں فلاں چیز بطور رہن پیش کرو۔ ورنہ اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں ایسے لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کروں گا جو موت کو اسی طرح پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3659]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 5337، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2482، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7190، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4367، 1845، 4366، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34232، 34417، 34418، 34422، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» برقم: 3806»
مجالد بن سعید ضعیف
مجالد بن سعید ضعیف
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2483 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3660
نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " يُقَاتَلُ أَهْلُ الأَوْثَانِ عَلَى الإِسْلامِ، وَيُقَاتَلُ أَهْلُ الْكِتَابِ عَلَى الْجِزْيَةِ" .
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مشرکین سے اسلام قبول کرنے پر لڑائی کی جائے گی، اور اہل کتاب سے جزیہ لینے پر لڑائی کی جائے گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3660]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2483، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18710، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9433، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33305»