سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
240. باب من أسلم وأقام بأرضه أو خرج عنها
باب: اُس شخص کا بیان جس نے اسلام قبول کیا اور یا تو اپنی زمین میں رہا یا وہاں سے نکل آیا۔
ترقیم دار السلفیہ: 2593 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3770
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّ دِهْقَانًا أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ رَفَعْنَا الْجِزْيَةَ عَنْ رَأْسِكَ وَأَخَذْنَاهَا مِنْ أَرْضِكَ، وَإِنْ تَحَوَّلْتَ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِهَا" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک دیہقان نے اسلام قبول کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تو اپنی زمین پر ٹھہرا تو تیرے سر سے جزیہ ہٹا دیں گے اور زمین سے خراج لیں گے، اور اگر زمین چھوڑ دی تو ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2593، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18485، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10134، 19403، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21948، 33612»
وضاحت: سند حسن (تدلیس کی وجہ سے معمولی ضعف، مگر قابل قبول)، مضمون صحیح و موافق اصول۔ اسی مفہوم کا اثر دیگر کتب میں بھی آیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جزیہ کا اصول یہی طے فرمایا تھا: کہ اسلام لانے والے پر جزیہ ساقط ہو جائے گا، مگر اس کی زمین سے خراج لیا جائے گا۔ کتاب الأموال لابن زنجویہ اور دیگر مصادر میں اس پالیسی کا تذکرہ ملتا ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن