سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
240. بَابُ مَنْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ بِأَرْضِهِ أَوْ خَرَجَ عَنْهَا
باب: اُس شخص کا بیان جس نے اسلام قبول کیا اور یا تو اپنی زمین میں رہا یا وہاں سے نکل آیا۔
ترقیم دار السلفیہ: 2592 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3769
نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ السَّوَادِ، وَأَقَامَ بِأَرْضِهِ أُخِذَ مِنْهُ الْخَرَاجُ، فَإِنْ تَرَكَ أَرْضَهُ رُفِعَ عَنْهُ الْخَرَاجُ" .
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر کوئی شخص اہل سواد (عراق) میں سے اسلام لے آئے اور اپنی زمین پر مقیم رہے تو اس سے خراج لیا جاتا ہے، اور اگر زمین چھوڑ دے تو اس سے خراج ختم ہو جاتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2592، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21954، 33617»
ترقیم دار السلفیہ: 2593 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3770
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّ دِهْقَانًا أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِنْ أَقَمْتَ فِي أَرْضِكَ رَفَعْنَا الْجِزْيَةَ عَنْ رَأْسِكَ وَأَخَذْنَاهَا مِنْ أَرْضِكَ، وَإِنْ تَحَوَّلْتَ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِهَا" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک دیہقان نے اسلام قبول کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تو اپنی زمین پر ٹھہرا تو تیرے سر سے جزیہ ہٹا دیں گے اور زمین سے خراج لیں گے، اور اگر زمین چھوڑ دی تو ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2593، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18485، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10134، 19403، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21948، 33612»
وضاحت: سند حسن (تدلیس کی وجہ سے معمولی ضعف، مگر قابل قبول)، مضمون صحیح و موافق اصول۔ اسی مفہوم کا اثر دیگر کتب میں بھی آیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جزیہ کا اصول یہی طے فرمایا تھا: کہ اسلام لانے والے پر جزیہ ساقط ہو جائے گا، مگر اس کی زمین سے خراج لیا جائے گا۔ کتاب الأموال لابن زنجویہ اور دیگر مصادر میں اس پالیسی کا تذکرہ ملتا ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2594 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3771
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فِي كِتَابِ مُعَاذٍ : " مَنِ اسْتَخْمَرَ قَوْمًا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يَعْنِي مَنِ اسْتَعْبَدَ قَوْمًا أَوَّلُهُمْ أَحْرَارٌ وَجِيرَانٌ مُسْتَضْعَفُونَ، فَمَنْ قَصَرَ مِنْهُمْ فِي بَيْتِهِ حَتَّى دَخَلَ الإِسْلامَ فِي بَيْتِهِ فَهُوَ رَقِيقٌ، وَمَنْ كَانَ مُهْمَلا يُؤَدِّي الْخَرَاجَ فَهُوَ حُرٌّ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ نَزَعَ إِلَى الْمُسْلِمَةِ مُسْلِمًا فَهُوَ حُرٌّ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے مکتوب میں ہے: ”جو قوم کسی کو غلام بنا لے حالانکہ وہ پہلے آزاد اور کمزور پڑوسی ہوں، پس جسے کسی نے اپنے گھر میں قید کر کے اسلام میں داخل کیا ہو وہ غلام ہے، اور جو آزادی کے ساتھ خراج دیتا رہا ہو وہ آزاد ہے۔ اور جو غلام اسلام میں مسلمانہ عورتوں کی طرف لپک آئے وہ آزاد ہو جاتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3771]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2595 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3772
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: " مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ فَلَهُ مَا أَسْلَمَ عَلَيْهِ مِنْ أَهْلٍ وَمَالٍ، وَأَمَّا أَرْضُهُ وَقَرَارُهُ فَهِيَ كَائِنَةٌ فِي فَيْءِ اللَّهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ" .
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا: ”جو اہل زمین میں سے اسلام قبول کرے اس کا اہل و مال اس کے لیے محفوظ ہے، البتہ اس کی زمین اور اس کا ٹھکانا مسلمانوں کے فیء میں شمار ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2595، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34124»
ترقیم دار السلفیہ: 2596 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3773
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ حِطَّانَ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ مِنْ مِصْرَ مِنْهُمْ أَمْرَدُ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ بَلْهِيبَ عَهْدٌ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ كَتَبَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ:" فَأَمَرَ أَنْ يُخَيِّرَهُمْ فَإِنْ دَخَلُوا فِي الإِسْلامِ، فَذَاكَ، وَإِنْ كَرِهُوا فَارْدُدْهُمْ إِلَى قُرَاهُمْ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ مصر سے معاہدے کے تحت بلہیب کے پاس آئے ہیں، تو انہوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ انہیں اسلام میں داخل ہونے یا اپنے قریوں میں واپس جانے کا اختیار دو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 3773]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
عوف بن حطان بن شجرة کی توثیق نامعلوم ہے
عوف بن حطان بن شجرة کی توثیق نامعلوم ہے
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف