🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
280. باب العبد ومولاه من العدو يخرجان من أرض العدو
باب: غلام اور اس کا آقا دشمن کی سرزمین سے نکلنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2808 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3984
نا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي وَاحِدٍ مِنْهُنَّ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ سَاعَةً قَطُّ . وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ عَبْدًا لَنَا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحَاصِرٌ ثَقِيفًا فَأَسْلَمَ، فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُ عَلَيْنَا، قَالَ: هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِهِ، فَلَمْ يَرُدَّهُ عَلَيْنَا .
ایک ثقفی شخص نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی میں بھی نرمی نہ کی، ہم نے سرد موسم میں طہارت کی آسانی مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی، ہم نے دباء کے استعمال کی اجازت مانگی، نہ دی، ہم نے اپنے غلام ابو بکرہ کو واپس مانگا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محاصرہ کے دوران اسلام لایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا آزاد کردہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے۔ اور اسے واپس نہ کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3984]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2808، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17802، 19079، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 17803، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5367، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4273»
وضاحت: رجل من ثقيف – مبہم (مجہول)، یعنی صحابی کا نام ذکر نہیں۔
◄ اگرچہ راوی مجہول ہے، لیکن چونکہ وہ صحابی ہے (صحابی کی جہالت مضر نہیں ہوتی)، لہٰذا یہ اثر قابلِ قبول ہے، کم از کم حسن درجہ پر۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥شباك الضبي
Newشباك الضبي ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم
Newالمغيرة بن مقسم الضبي ← شباك الضبي
ثقة مدلس
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← المغيرة بن مقسم الضبي
ثقة متقن