🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. قوله تعالى: {ولا يأب الشهداء إذا ما دعوا}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 458 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 458
نَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ قَوْلِهِ: وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا سورة البقرة آية 282، قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا، أَوْ بَعْدَ مَا اسْتُشْهِدُوا؟، قَالَ:" لا، بَلْ بَعْدَ مَا شَهِدُوا" .
محمد بن ثابت العبدی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا، اور میں وہاں موجود تھا۔ اس نے دریافت کیا: اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ اور گواہ انکار نہ کریں جب بلائے جائیں کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ اس سے پہلے کا حکم ہے کہ انہیں گواہی کے لیے بلایا جائے، یا جب وہ پہلے ہی گواہی دے چکے ہوں؟ عطاء رحمہ اللہ نے جواب دیا: نہیں، بلکہ جب وہ گواہی دے چکے ہوں، اس کے بعد انکار نہیں کرنا چاہیے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 458، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22815»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف محمد بن ثابت.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمدثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥محمد بن ثابت العبدي، أبو عبد الله، أبو النضر
Newمحمد بن ثابت العبدي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
مقبول