پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
41. باب سنن الوضوء - ذكر وصف المضمضة والاستنشاق للمتوضئ في وضوئه
وضو کی سنتوں کا بیان - وضو کرنے والے کے لیے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کی حالت کا ذکر
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ،" سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ، فَغَسَلَ يَدَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، مِنْ ثَلاثِ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ .
عمرو بن یحیی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں اس وقت عمرو بن ابوحسن کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے وضو کے پانی کا برتن منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ پر انڈیلا انہوں نے اپنے ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا انہوں نے ایسا تین مرتبہ کیا اور تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر کیا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دو مرتبہ دھویا پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے سر کا مسح کیا۔ وہ ہاتھ آگے سے پیچھے لے کر گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھو لئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 185، 186، 191، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 235، ومالك فى (الموطأ) برقم: 45، وابن الجارود فى "المنتقى"، 77، 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 155، 156، 157، 172، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1077، 1084، 1093، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 651، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 97، وأبو داود فى (سننه) برقم: 118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 405، 434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 266، 267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16694» «رقم طبعة با وزير 1074»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (107): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، العباس بن الوليد: هو ابن نصر النرسي، وعمرو ابن يحيى: هو الأنصاري المازني المدني، وعبد الله بن زيد هو ابن عاصم المازني، لا عبد الله بن زيد بن عبد ربه الذي أري النداء.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1077 in Urdu
يحيى بن عمارة الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري