پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
67. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن غسل الذكر للمذي لا يجزئ به صلاته دون الوضوء وأن الوضوء يجزئ عن نضح الثوب له
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مذی کے لیے ذکر دھونا کافی نہیں ہوتا کہ اس سے نماز ادا ہو، بغیر وضو کے، اور یہ کہ وضو کپڑے پر چھینٹے مارنے کے بدلے کافی ہے
حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الاغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ". فَقُلْتُ: فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ:" يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ" .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے مذی کی وجہ سے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مجھے اس کی وجہ سے بکثرت غسل کرنا پڑتا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس کی وجہ سے تمہارے لئے وضو کر لینا کافی ہے۔ میں نے عرض کی: اگر یہ میرے کپڑے پر لگ جائے، تو پھر کیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اتنا کافی ہے، تم چلو میں پانی لو اور اسے اپنے کپڑے پر اس جگہ چھڑک لو جہاں تمہیں نظر آ رہا ہے کہ یہ لگی ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1103]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 291، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1103، وأبو داود فى (سننه) برقم: 210، والترمذي فى (جامعه) برقم: 115، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4194، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16220» «رقم طبعة با وزير 1100»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (205).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، فقد صرح ابن إسحاق بالتحديث.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1103 in Urdu
عبيد بن السباق الثقفي ← سهل بن حنيف الأنصاري