پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
66. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فلينضح فرجه أراد به فليغسل ذكره
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فلینضح فرجہ" سے مراد ہے کہ وہ اپنا ذکر دھوئے
حدیث نمبر: 1102
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَإِذَا رَأَيْتَ الْمَاءَ، فَاغْتَسِلْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ هَذَا الْحُكْمِ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ أَخْبَرَ الْمِقْدَادُ عَلِيًّا بِذَلِكَ، ثُمَّ سَأَلَ عَلِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا أَخْبَرَهُ بِهِ الْمِقْدَادُ حَتَّى يَكُونَا سُؤَالَيْنِ فِي مَوْضِعَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُمَا كَانَا فِي مَوْضِعَيْنِ أَنَّ عِنْدَ سُؤَالِ عَلِيٍّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَهُ بِالاغْتِسَالِ عِنْدَ الْمَنِيِّ، وَلَيْسَ هَذَا فِي خَبَرِ الْمِقْدَادِ. يَدُلُّكُ هَذَا عَلَى أَنَّهُمَا غَيْرُ مُتَضَادَّيْنِ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسا شخص تھا، جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم مذی کو دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو لو اور جب تم پانی (یعنی منی کو دیکھو) تو تم غسل کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) (اس بات کا امکان موجود ہے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو اس بات کی ہدایت کی ہو کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا حکم دریافت کریں۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے انہیں بتایا پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جس کے بارے میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا تھا، تو یہ دو سوال ہوں گے جو دو مختلف موقعوں پر کئے گئے۔ اور اس بات کی دلیل یہ دونوں سوال مختلف موقعوں پر کئے گئے تھے۔ یہ ہے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ تو آپ نے منی کے نزول کے وقت انہیں غسل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بات سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں نہیں ہے۔ یہ بات آپ کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف احادیث ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، 1104، 1107، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628، 673» «رقم طبعة با وزير 1099»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (125)، «صحيح أبي داود» (201). * [قَبِيصَةَ] قال الشيخ: في الأصل: (عقبة).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1102 in Urdu
الحصين بن قبيصة الفزاري ← علي بن أبي طالب الهاشمي