الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
92. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن الوضوء من أكل لحوم الجزور غير واجب
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ اونٹ کے گوشت کے کھانے سے وضو واجب نہیں
حدیث نمبر: 1130
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ:" أَيْنَ شَاتُكُمُ الْوَالِدُ؟ فَأَمَرَنِي بِهَا، فَاعْتَقَلْتُهَا فَحَلَبْتُ لَهُ، ثُمَّ صَنَعَ لَنَا طَعَامًا فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ" ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ،" فَوَضَعْتُ جَفْنَةً فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّيْنَا قَبْلَ أَنْ نَتَوَضَّأَ" . قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا آپ نے اسے کھا لیا پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے باقی بچے ہوئے کھانے کو منگوا کر اسے کھا لیا پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی اور ازسرنو وضو نہیں کیا۔ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دریافت کیا: کیا کوئی چیز ہے، تو انہیں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہاری وہ بکری کہاں ہے، جو بچہ دینے والی تھی، پھر آپ نے اس کے بارے میں مجھے حکم دیا میں نے اسے کھول لیا اور اس کا دودھ دوہ لیا پھر آپ کے لئے کھانا تیار کروایا، آپ نے اسے کھایا پھر آپ نے وضو کرنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ایک پیالہ رکھا جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا۔ ہم نے اسے کھا لیا پھر ہم نے ازسرنو وضو کئے بغیر نماز ادا کی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1130]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1127»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (186).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري