صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
98. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن هذا الطعام الذي لم يتوضأ صلى الله عليه وسلم من أكله كان لحم شاة لا لحم إبل
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ وہ کھانا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا وہ بکری کا گوشت تھا، نہ کہ اونٹ کا گوشت
حدیث نمبر: 1137
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" دَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَاةٍ " فَأَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَادَ إِلَى بَقِيَّتِهَا فَأَكَلُوا، فَحَضَرَتِ الْعَصْرُ، فَلَمْ يَتَوَضَّأْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک انصاری خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کا گوشت کھانے کی دعوت دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اسے کھا لیا، نماز کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا (اور نماز ادا کر لی)، پھر آپ گوشت میں سے باقی حصے رہ جانے کی طرف تشریف لائے اور ان لوگوں نے اسے کھا لیا، پھر عصر کی نماز کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازسرنو وضو نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1137]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5457، ومالك فى (الموطأ) برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى"، 26، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 43، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1130، 1132، 1134، 1135، 1136، 1137، 1138، 1139، 1145، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4686، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 185، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 191، 192، والترمذي فى (جامعه) برقم: 80، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 489، 3282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14483» «رقم طبعة با وزير 1134»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، محمد بن عبد الرحمن الطُّفَاوي من شيوخ الإمام أحمد، وثقه ابن المديني، وقال أبو حاتم: صدوق إلا أنه يهم أحياناً، وقال ابن معين: لا بأس به، وقال أبو زرعة: منكر الحديث، وأورد له ابن عدي عدة أحاديث وقال: أنه لا بأس به، وأخرج له البخاري ثلاثة أحاديث، ليس فيها شيء مما استنكره ابن عدي كما في «مقدمة فتح الباري» ص440، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1137 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري