صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
168. باب أحكام الجنب - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر هشام الدستوائي الذي ذكرناه
جنابت (جنبی ہونے) کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے ذکر کردہ ہشام دستوائی کی خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 1209
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي خَبَرِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ نِسْوَةٍ، وَفِي خَبَرِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ، أَمَا خَبَرُ هِشَامٍ، فَإِنَّ أَنَسًا حَكَى ذَلِكَ الْفِعْلَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ، حَيْثُ كَانَتْ تَحْتَهُ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً، وَخَبَرُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ إِنَّمَا حَكَاهُ أَنَسٌ، فِي آخِرِ قُدُومِهِ الْمَدِينَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَيْثُ كَانَ تَحْتَهُ تِسْعُ نِسْوَةٍ، لأَنَّ هَذَا الْفِعْلَ كَانَ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِرَارًا كَثِيرَةً لا مَرَّةً وَاحِدَةً.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی رات میں اپنی تمام ازواج کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس وقت آپ کی 9 ازواج تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہشام دستوائی نے قتادہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ”ان ازواج کی تعداد گیارہ تھی۔“ جبکہ سعید نے قتادہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ مذکور ہے، اس وقت آپ کی نو ازواج تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہشام دستوائی نے قتادہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ”ان ازواج کی تعداد گیارہ تھی“ جبکہ سعید نے قتادہ کہ حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ”اس وقت ان ازواج کی تعداد نو تھی“ جہاں تک ہشام کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا ذکر اس زمانے کے حساب سے کیا ہے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت آپ کی گیارہ ازواج تھیں جبکہ سعید نے قتادہ کہ حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس زمانے کا ذکر کیا ہے، جو مدینہ منورہ میں آپ کا آخری زمانہ ہے۔ جب آپ کی نو ازواج تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فعل کئی مرتبہ کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسے صرف ایک مرتبہ کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1206»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (284). * [قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «فِي خَبَرِ ... إلخ] قال الشيخ: وخطَّأُه الحافظ (1/ 378).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، سعيد هو ابن أبي عروبة.
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري