الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
195. باب غسل الكافر إذا أسلم - ذكر الأمر بالاغتسال للكافر إذا أسلم
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ کافر جب اسلام لائے تو اسے غسل کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمْةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِي أُسِرَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ إِلَيْهِ، فِيقُولُ:" وَمَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" فِيقُولُ: إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ تُعْطَ مَا شِئْتَ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ، وَيَقُولُونَ: مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمْ، فَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ حَسُنَ إِسْلامُ صَاحِبِكُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تمامہ حنفی کو قید کر لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ملنے کے لئے آئے، تو آپ نے دریافت کیا: اے ثمامہ! تمہارے من میں کیا ہے۔ اس نے کہا: اگر آپ قتل کر دیتے ہیں، تو پھر ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو دے دیا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فدیہ لینے والی صورت کو پسند کیا۔ انہوں نے کہا: اس کو قتل کر کے ہمیں کیا ملے گا پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ابوطلحہ کے باغ کی طرف بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کر لے انہوں نے غسل کر کے دو رکعات نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1235»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 164).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
سناده صحيح على شرطهما، عبد الله بن عمر – وإن كان ضعيفاً- تابعه عليه عبيد الله بن عمر، وهو ثقة روى له الشيخان.
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي