الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
196. باب غسل الكافر إذا أسلم - ذكر البيان بأن ثمامة ربط إلى سارية في وقت أسره
جمعہ کے دن کے غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ثمامہ کو اس کے قید کے وقت ستون سے باندھا گیا تھا
حدیث نمبر: 1239
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَيْلا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"؟ قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ، تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى كَانَ الْغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ لَهُ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ"؟ فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ" فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ بَلَدٌ أَبْغَضَ عَلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَقَدَ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلادِ إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمْا قَدِمَ مَكَّةَ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلا وَاللَّهِ لا تَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ لأَهْلِ الْوَرَعِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت میں ایک مہم روانہ کی وہ لوگ بنو حنیفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پکڑ کے لے آئے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا۔ یہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ لوگوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے من میں کیا ہے۔ اے ثمامہ! وہ بولا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بھلائی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کر دیتے ہیں، تو آپ ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کرتے ہیں، تو آپ ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ مانگیں جو مانگیں گے آپ کو دیا جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا، یہاں تک کہ اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اے ثمامہ تمہارے ذہن میں کیا ہے؟ وہ بولا: وہی ہے، جو میں نے آپ کو کہا: تھا کہ اگر آپ انعام کریں گے تو ایک شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کرتے ہیں، تو ایک خون والے شخص کو قتل کرتے ہیں اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ مانگئے آپ جو مانگیں گے آپ کو مل جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے چھوڑ دیا پھر اگلا دن آ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے۔ وہ بولا: میرے ذہن میں وہی ہے، جو میں آپ کو بتا چکا ہوں اگر آپ انعام کریں گے تو شکر گزار شخص پر انعام کریں گے اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ مانگئے جو چاہیں وہ آپ کو دیا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ثمامہ کو چھوڑ دو پھر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں چلے گئے۔ انہوں نے وہاں غسل کیا پھر وہ مسجد میں آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہاللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! روئے زمین پر کسی بھی شخص کا چہرہ میرے نزدیک آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے، آپ کا چہرہ میرے نزدیک تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ دین اور کوئی نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے، آپ کا دین میرے نزدیک تمام ادیان سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ میرے نزدیک اور کوئی شہر نہیں تھا لیکن اب یہ حالت ہے، آپ کا شہر میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا۔ میں عمرے کے لئے جا رہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی (مبارک باد دی) اور اسے عمرہ کرنے کی ہدایت کی جب وہ مکہ آیا تو کسی نے اس سے کہا: تم بے دین ہو گئے ہو اس نے جواب دیا: جی نہیں میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسلام قبول کیا ہے، جو اللہ کے رسول ہے اللہ کی قسم! ثمامہ کی طرف سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا، جب تک اللہ کے رسول اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ پرہیزگار لوگ (مسلمان) حربیوں کے علاقے میں تجارت کر سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1236»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 164 و 5/ 41 - 42): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي