الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
252. باب الأسآر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن ما في الإناء بعد ولوغ الكلب فيه طاهر غير نجس ينتفع به
بچے ہوئے پانی (آثارِ استعمال) کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ کتے کے منہ لگانے کے بعد برتن میں موجود چیز طاہر ہے، نجس نہیں، اور اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 1296
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وأبي رزين ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُهْرِقْهُ، ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کتا کسی شخص کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ پانی کو بہا دے پھر اسے سات مرتبہ دھو لے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1293»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (24): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح، أبو صالح: هو ذكوان السمان المدني، وأبو رزين: هو مسعود بن مالك الأسدي.
الرواة الحديث:
مسعود بن مالك الأسدي ← أبو هريرة الدوسي