صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
260. باب التيمم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن مسح الذراعين في التيمم واجب لا يجوز تركه
تیمم کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ تیمم میں بازوؤں کا مسح کرنا واجب ہے اور اسے ترک کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1305
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمْةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: لَوْ أَنَّ جُنُبًا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ يُصَلِّ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا، قَالَ أَبُو مُوسَى: أَمَا تَذْكُرُ حِينَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلا تَتَّقِي اللَّهَ، أَلا تَذْكُرُ حِينَ بَعَثَنِي وَإِيَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِبِلِ، فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَلَمْا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا: وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ، فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي ذَلِكَ يُوشِكُ إِذَا بَرَدَ عَلَى جِلْدِ أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمَ، قَالَ الأَعْمَشُ: فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ: أَمَا كَانَ لِعَبْدِ اللَّهِ غَيْرُ ذَلِكَ؟ قَالَ: لا.
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر کسی جنبی کو ایک مہینے تک پانی نہیں ملتا تو کیا وہ نماز ادا نہیں کرے گا؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا تھا کہ اے امیر المؤمنین! کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہیں؟ کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور آپ کو (اونٹوں) کے باڑے میں بھیجا تھا، تو مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا» ”تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کر لو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا اور اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ بات طے ہے، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی تھی۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر آپ سورۃ النساء میں موجود اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة النساء: 43] ”اور تمہیں پانی نہیں ملتا تو تم پاک مٹی کے ذریعے تیمم کر لو“ کے بارے میں کیا کہیں گے؟“ اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ہم لوگوں کو اس بارے میں رخصت دینا شروع کر دیں تو عنقریب ایسا وقت آ جائے گا کہ جب ان میں سے کسی ایک کو پانی ٹھنڈا لگے گا، تو وہ تیمم کر لیا کرے گا۔“ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے شقیق سے کہا: ”کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (کی اس مسئلے کے بارے میں) کوئی اور دلیل بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 345، 346، 347، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، 368، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 270، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1304، 1305، 1307، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 319، وأبو داود فى (سننه) برقم: 321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18618» «رقم طبعة با وزير 1302»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1305 in Urdu
عبد الله بن قيس الأشعري ← عمار بن ياسر العنسي