صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
260. باب التيمم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن مسح الذراعين في التيمم واجب لا يجوز تركه
تیمم کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ تیمم میں بازوؤں کا مسح کرنا واجب ہے اور اسے ترک کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ، فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنْتَ وَأَنَا فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا، فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، فَصَلَّيْتُ، فَلَمْا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ: وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفِيهِ" .
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے جنابت لاحق ہوگئی ہے اور مجھے پانی نہیں ملا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نماز نہ پڑھو۔ اس پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک جنگ میں تھے اور ہمیں جنابت لاحق ہوگئی اور پانی نہیں ملا، آپ نے تو نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا تھا اور میں نے نماز ادا کر لی تھی۔ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں اتنا کافی تھا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک زمین پر مارا، اس پر پھونک ماری اور ان دونوں ہاتھوں کو اپنے چہرے اور بازوؤں پر پھیر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، 140، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، 1303، 1306، 1308، 1309، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، 327، 328، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والدارقطني فى (سننه) برقم: 693، 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144» «رقم طبعة با وزير 1303»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (345): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (1267) الذي أورده المؤلف طريق يزيد بن زريع، عن شعبة، به.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1306 in Urdu
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← عمار بن ياسر العنسي