صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
276. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر الخبر المدحض قول من نفى جواز المسح على الخفين للمقيم إذا لم يكن مسافرا
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مقیم کے لیے موزوں پر مسح جائز نہیں اگر وہ مسافر نہ ہو
حدیث نمبر: 1323
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: دَخَلَ بِلالٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الأسواق، فذهب لحاجته، ثم خرج، قَالَ أُسَامَةُ، فَسَأَلْتُ بِلالا: مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِلالٌ : " ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفِينِ، ثُمَّ صَلَّى" .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار تشریف لائے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چہرے اور دونوں بازوؤں کو دھویا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر مسح کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 275، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 180، 183، 189، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1323، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 538، 609، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 104، وأبو داود فى (سننه) برقم: 153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 101، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 561، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24514، والحميدي فى (مسنده) برقم: 150» «رقم طبعة با وزير 1320»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [عبد الله بن نافع] قال الشيخ: هو الصائغ، وفيه لين. لكن تابعَه أَبُو نُعيمٍ: عِندَ الحاكم؛ فَصَحَّ الْحَديثُ، وَالحمدُ للهِ. وقال الحاكم: «صحيح على شرط مسلم»، ووافَقَه الذهبيّ. وَمِنْ أَوهَام المُعَلِّق على الكتاب (4/ 153 - طبعة المؤسسة): أَنَّهُ قوَّى إِسنَاد الصائغِ هَذَا! ويُمكِنُ تَحسينُ حَديِثه فقط؛ للضَّعف المذكُور فيه، ثُمَّ أَطَالَ في تخريج الحديث كعادته؛ فعزاه لجمع مِنْ طُرقٍ عن بلال - منهم مسلم!! - فأوهمَ القراء - كعادته - أنَّهُ عِندَهم بهذا التمام الذي في الكتاب! وليس كذلك، وإِنَّمَا لهم منه المسح على الخُفَّينِ فقط! انظر: «صحيح مسلم» (1/ 159)، و «صحيح أبي داود» (142). * [الأَسْوَافَ] قال الشيخ: تَصحَّف فِي الطبعتين، وفي «الموارد»، و «صحيح ابن خزيمة» (1/ 93 / 185)، و «المستدرك» (1/ 151)، وغيرها مِمَّن روى الحديث إلى: (الأسواق) - بالقاف -! وصحَّحته من «سنن البيهقي» (1/ 275)، وقال: «الأسواف: حائط بالمدينة». وقال الحاكم: «مَحلَّةُ مَشْهُورٌ مِنْ مَحالّ المَدِينَة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1323 in Urdu
أسامة بن زيد الكلبي ← بلال بن رباح الحبشي