پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
299. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر البيان بأن هذه اللفظة ومسح ناصيته في هذا الخبر تفرد به سليمان التيمي
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اس خبر میں لفظ "اور اس کی پیشانی پر مسح کیا" سلمان تیمی نے تنہا بیان کیا
حدیث نمبر: 1347
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَخَلَّفَ، فَتَخَلَّفَ مَعَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَلَمْا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ مَاءٌ؟ قُلْتُ: فَأَتَيْتُهُ بِالْمِطْهَرَةِ، " فَغَسَلَ كَفِيهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَحْسِرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتْ بِهَا الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَأَلْقَاهَا عَلَى عَاتِقِهِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ وَعِمَامَتِهِ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ مَعَهُ، فَانْتَهَى إِلَى النَّاسِ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمْا أَحَسَّ بِجَيْئَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلِّ، فَلَمْا قَضَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ الصَّلاةَ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُغِيرَةُ فَأَكْمَلا مَا سَبَقَهُمَا" .
حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (قافلے سے پیچھے (رہ گئے۔ آپ کے ہمراہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بھی پیچھے رہ گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کر لی تو آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس پانی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں (ہے) میں پانی کا برتن لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اور چہرے کو دھو لیا آپ بازوں دھونے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی , تو آپ نے نیچے سے اپنے بازو کو باہر نکالا اور جبے کو اپنے کندھے پر رکھ لیا پھر آپ نے اپنے دونوں بازو دھوئے پھر آپ نے اپنے موزوں اور عمامے پر مسح کیا پھر آپ سوار ہوئے آپ کے ہمراہ میں بھی سوار ہوا۔ ہم لوگوں تک پہنچے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری محسوس ہوئی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز پڑھتے رہو جب سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا مغیرہ کھڑے ہوئے اور ان حضرات نے پہلے گزر جانے والی رکعت کو ادا کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، ومالك فى (الموطأ) برقم: 99، وابن الجارود فى "المنتقى"، 30، 91، 93، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 17، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، 100، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، 545، 1236،والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، 738،وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421، والحميدي فى (مسنده) برقم: 775، 776» «رقم طبعة با وزير 1344»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (138): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1347 in Urdu
حمزة بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي