صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
326. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الاكتفاء بالرش على الثياب التي أصابها بول الذكر الذي لم يطعم بعد
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اس کپڑے پر چھڑکاؤ کافی ہے جسے اس نر بچے کا پیشاب لگے جو ابھی کھانا نہ کھاتا ہو
حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ الأَسَدِيَّةَ ، أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الَّتِي بَايَعَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ" . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:" فَمَضَتِ السُّنَّةُ بِأَنْ لا يُغْسَلَ مِنْ بَوْلِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَأْكُلَ الطَّعَامَ، فَإِذَا أَكَلَ الطَّعَامَ غُسِلَ مِنْ بَوْلِهِ".
سیده ام قیس بنت محصن اسدیہ رضی اللہ عنہا جو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں اور ان مہاجر خواتین میں سے ایک ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی وہ بیان کرتی ہیں: میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کچھ کھاتا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا اور گود میں بٹھا لیا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ آپ نے اسے دھویا نہیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں اس کے بعد یہ رواج چل پڑا کہ بچے کے پیشاب کو دھویا نہیں جاتا جب تک وہ کچھ کھانے کے قابل نہیں ہو جاتا جب وہ کھانے لگے گا، تو اس کے پیشاب کو دھویا جائے [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1374]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1371»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← آمنة بنت محصن الأسدية