صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب الفطرة - ذكر خبر قد أوهم من أغضى عن علم السنن واشتغل بضدها أنه يضاد الأخبار التي ذكرناها قبل-
فطرت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس شخص کو، جو علمِ سنت سے غافل ہو اور اس کے خلاف میں مشغول ہو، یہ وہم دے سکتا ہے کہ یہ پچھلی خبروں کے مخالف ہے۔
حدیث نمبر: 138
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ صَبِيٌّ، فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ، عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَلا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلا وَلِهَذِهِ أَهْلا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ هَذَا تَرْكَ التَّزْكِيَةِ لأَحَدٍ مَاتَ عَلَى الإِسْلامِ، وَلِئَلا يُشْهَدَ بِالْجَنَّةِ لأَحَدٍ وَإِنْ عُرِفَ مِنْهُ إِتْيَانُ الطَّاعَاتِ وَالانْتِهَاءُ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ، لِيَكُونَ الْقَوْمُ أَحْرَصَ عَلَى الْخَيْرِ، وَأَخْوَفَ مِنَ الرَّبِّ، لا أَنَّ الصَّبِيَّ الطِّفْلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُخَافُ عَلَيْهِ النَّارُ، وَهَذِهِ مَسْأَلَةٌ طَوِيلَةٌ قَدْ أَمْلَيْنَاهَا بِفُصُولِهَا، وَالْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ فِي كِتَابِ" فُصُولُ السُّنَنِ"، وَسَنُمْلِيهَا إِنْ شَاءَ الِلَّهِ بَعْدَ هَذَا الْكِتَابِ فِي كِتَابِ، الْجَمْعُ بَيْنَ الأَخْبَارِ وَنَفْيُ التَّضَادِّ عَنِ الآثَارِ، إِنْ يَسَّرَ الِلَّهِ تَعَالَى ذَلِكَ وَشَاءَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک بچے کا انتقال ہو گیا۔ میں نے کہا: یہ کتنا خوش نصیب ہے، جو جنت کی ایک چڑیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا ہے، اور جہنم کو پیدا کیا ہے، اور اس (جنت) کے لیے بھی اہل پیدا کر دیے ہیں اور اس (جہنم) کے لیے بھی اہل پیدا کر دیے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: اسلام کی حالت میں مرنے والے کسی بھی شخص کا تزکیہ نہ کیا جائے، یعنی اسے باقاعدہ جنتی قرار نہ دیا جائے، اگرچہ اس شخص کا نیکوکار ہونا اور برائیوں سے بچنا معروف ہو، کیونکہ لوگ بھلائی کے بارے میں زیادہ حریص ہوتے ہیں اور اپنے پروردگار سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: مسلمانوں کے فوت ہونے والے کم سن بچے کے جہنم میں جانے کا اندیشہ ہے۔ یہ ایک طویل مسئلہ ہے، جسے ہم نے اس سے متعلقہ فصول میں املا کروایا ہے اور ان روایات کے درمیان تطبیق کتاب «فُصُولُ السُّنَنِ» ”فصول السنن“ میں ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس کتاب کے بعد ہم (اپنی دوسری) کتاب «الْجَمْعُ بَيْنَ الْأَخْبَارِ وَنَفْيُ التَّضَادِّ عَنِ الْآثَارِ» ”الجمع بین الاخبار ونفی التضاد عن الآثار“ میں اسے املا کروائیں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور اسے ہمارے لیے آسان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2662، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 138، 6173، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1946، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4713، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 82، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24766، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1679، والحميدي فى (مسنده) برقم: 267»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (82): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 138 in Urdu
عائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق