صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
346. باب تطهير النجاسة
نجاست کو پاک کرنے کا بیان -
حدیث نمبر: 1396
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الِمَنْذِرِ ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ، فَقَالَ: " حتِيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ رُشِّيهِ، وَصَلِّي فِيهِ" . قال أَبُو حَاتِمٍ: الأَمْرُ بِالْحَتِّ وَالرَّشِ أَمْرَ نَدْبٍ لا حَتْمٍ، وَالأَمْرُ بِالْقَرْصِ بِالْمَاءِ مُقِرُّونَ بِشَرْطِهِ، وَهُوَ إِزَالَةُ الْعَيْنِ، فَإِزَالَةُ الْعَيْنِ فَرْضٌ، وَالْقَرْصُ بِالْمَاءِ نَفْلٌ إِذَا قَدَرَ عَلَى إِزَالَتِهِ بِغَيْرِ قَرْصٍ، وَالأَمْرُ بِالصَّلاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ بَعْدَ غَسْلِهِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ لا حَتْمٍ.
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں۔ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا (یعنی جو کپڑے پر لگ جاتا ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے کھرچ کر پانی کے ذریعے مل دو پھر اس پہ پانی چھٹرکو پھر اس (کپڑے) میں نماز ادا کر لو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کھرچنے اور پانی چھڑکنے کا حکم استحباب کے طور پر ہے، لازم نہیں ہے اور پانی کے ہمراہ اسے ملنے کا حکم اس کی شرط کے ساتھ ملا ہوا ہے اور وہ اس نجاست کے وجود کو زائل کرنا ہے، تو اس نجاست کے وجود کو زائل کرنا فرض ہو گا اور پانی کے ذریعے اسے ملنا نفل ہو گا، جب ملے بغیر اس نجاست کو زائل کرنا ممکن ہو اور اس کپڑے کو دھو لینے کے بعد اس کپڑے میں نماز ادا کرنے کا حکم اباحت کے طور پر ہے۔ لازم قرار دینے کے طور پر نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1396]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1393»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (387): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
فاطمة بنت المنذر الأسدية ← أسماء بنت أبي بكر القرشية