الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
376. باب الاستطابة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر حذيفة الذي ذكرناه
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ حذیفہ کی خبر کے مخالف ہے جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 1430
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَكَذِّبْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ قَدْ يُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْحَدِيثِ أَنَّهُ مُضَادٌّ لِخَبَرِ حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكرْنَاهُ، لَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ حُذَيْفَةَ رَأَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ قَائِمًا عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، وَهِيَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ أَبَنَّا السَّبَبَ فِي فِعْلِهِ ذَلِكَ، وَعَائِشَةُ لَمْ تَكُنْ مَعَهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، إِنَّمَا كَانَتْ تَرَاهُ فِي الْبُيُوتِ يَبُولُ قَاعِدًا، فَحَكَتْ مَا رَأَتْ، وَأَخْبَرَ حُذَيْفَةُ بِمَا عَايَنَ، وَقَوْلُ عَائِشَةَ فَكَذِّبْهُ، أَرَادَتْ: فَخَطِّئْهُ، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الْخَطَأَ كَذِبًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے، تو تم اسے جھوٹا قرار دو کیوں کہ میں نے آپ کو ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ یہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت کی متضاد ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوار کے پاس کچرے کے ڈھیر کے پاس پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ مدینہ منورہ کے کنارے کی بات ہے اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا سبب بیان کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے وہ چیز بیان کی ہے، جو انہوں نے دیکھی ہے مگر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ بات بیان کی ہے، جو انہوں نے دیکھی ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ ”تم اس شخص کو جھوٹا قرار دو۔“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم اسے غلط قرار دو کیونکہ بعض اوقات عرب الفظ غلطی کیلئے لفظ کذب استعمال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1427»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (201).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، شريك: هو ابن عبد الله القاضي - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
شريح بن هانئ الحارثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق