صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر ثالث يدل على أن من ترك الصلاة متعمدا إلى أن دخل وقت صلاة أخرى لا يكفر به
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے، وہ اس سے کافر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 1457
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلَمْةِ اللَّهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟"، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ، فَأَدَّيْتَ، وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّي بَيْنَهُمَا شَيْئًا . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْا جَازَ تَقْدِيمُ صَلاةِ الْعَصْرِ عَنْ وَقْتِهَا، وَلَمْ يَسْتَحِقَّ فَاعِلُهُ أَنْ يَكُونَ كَافِرًا، كَانَ مِنْ أَخَّرَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا، ثُمَّ أَدَّاهَا بَعْدَ وَقْتِهَا أَوْلَى أَنْ لا يَكُونَ كَافِرًا.
امام جعفر صادق اپنے والد (امام محمد باقر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تو انہوں نے بتایا (حجتہ الوداع کے موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت بالوں سے بنا ہوا خیمہ لگا دیا گیا وہ آپ کے لئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ شعر حرام کے قریب وقوف کریں گے، جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھ گئے اور آپ عرفہ تشریف لے آئے۔ وہاں آپ نے یہ دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ کے لئے خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا، تو آپ کے حکم کے تحت آپ کی اونٹنی قصواء پر پالان رکھ دیا گیا۔ آپ وادی کے نشیبی حصے میں تشریف لائے۔ آپ نے لوگوں سے خطاب کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں قابل احترام ہے۔“ خبردار! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے دونوں پاؤں کے نیچے رکھی گئی ہے، اور زمانہ جاہلیت کا ہر خون معاف ہو گیا ہے۔ سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کا ہے، جو ہنولیث میں دودھ پیتے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں مار دیا تھا تم لوگ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کیونکہ تم نے اللہ کی امان میں انہیں حاصل کیا ہے، اوراللہ تعالیٰ کے کلمے کے مطابق ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے، وہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتی ہیں، تو تم زیادتی کئے بغیر ان کی پٹائی کرو اور ان کا تم پر یہ حق ہے، تم انہیں رزق اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے وہ اللہ کی کتاب ہے، جب تم سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے گا، تو تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ نے تبلیغ کر دی ہے، (فریضہ رسالت کو) ادا کر دیا ہے آپ نے خیر خواہی کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کیا اور پھر اسے لوگوں کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا“ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر اذان ہوئی اقامت کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت کہی گئی آپ نے عصر کی نماز پڑھائی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب عصر کی نماز کو اپنے مخصوص وقت سے پہلے ادا کرنا جائز ہے اور ایسا کرنے والا شخص اس بات کا مستحق نہیں ہوتا کہ اس کافر قرار دیا جائے، تو جو شخص نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کر دیتا ہے پھر اس کا وقت گزر جانے کے بعد ادا کرتا ہے، تو وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہوتا ہے کہ وہ کافر نہ ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1455»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «حجة النبي صلى الله عليه وسلم»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، هشام بن عمار – وإن كان فيه ضعف - قد توبع.
الرواة الحديث:
محمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري