صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
12. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر رابع يدل على أن تارك الصلاة متعمدا لا يكفر كفرا لا يرثه ورثته المسلمون لو مات قبل أن يصليها
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - چوتھی خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا کفر نہیں کرتا کہ اس کے مرنے پر اس کے ورثاء اس کی وراثت سے محروم ہوں
حدیث نمبر: 1458
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفِيلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ، أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ، فِيصَلِّيهِمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ وَصَلاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے، جب آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ جمع کر دیتے تھے اور وہ دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب آپ سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے تھے پھر روانہ ہوتے تھے جب آپ مغرب سے پہلے روانہ ہو جاتے تھے، تو آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ہمراہ ادا کرتے تھے اور جب آپ مغرب کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ عشاء کی نماز کو جلدی ادا کرتے تھے اور اسے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1456»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1210)، «صحيح أبي داود» (1089): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، ابو الطُّفيل: هو عامر بن واثلة الليثي، ولد عام أُحُد، ورأى النبي صلى الله عليه وسلم، وروى عن أبي بكر فمن بعده، وعُمِّر إلى أن مات سنة عشر ومئة على الصحيح، وهو آخر من مات من الصحابة، قاله مسلم وغيره. وقد أعله الحاكم في «علوم الحديث» ص120 بما لا يقدح في صحته، ونقل كلامه ابن القيم في «زاد المعاد» 1م477 - 480، ورد عليه. وانظر «الفتح» 2/ 583.
الرواة الحديث:
عامر بن واثلة الليثي ← معاذ بن جبل الأنصاري