صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. باب مواقيت الصلاة - ذكر لفظة تعلق بها من جهل صناعة الحديث وزعم أن الإسفار بالفجر أفضل من التغليس
نماز کے اوقات کا بیان - اس لفظ کا ذکر جس سے ناواقف حدیث نے یہ سمجھا کہ فجر کی نماز کو روشن کرنے سے بہتر ہے کہ اسے اندھیرے میں پڑھا جائے
حدیث نمبر: 1489
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ، فَإِنَّكُمْ كُلَمْا أَصْبَحْتُمْ بِالصُّبْحِ كَانَ أَعْظَمَ لأُجُورِكُمْ أَوْ لأَجْرِهَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَمَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالإِسْفَارِ لِصَلاةِ الصُّبْحِ، لأَنَّ الْعِلَّةَ فِي هَذَا الأَمْرِ مُضْمَرَةٌ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يُغَلِّسُونَ بِصَلاةِ الصُّبْحِ، وَاللَّيَالِي الْمُقْمِرَةُ إِذَا قَصَدَ الْمَرْءُ التَّغْلِيسَ بِصَلاةِ الْفَجْرِ صَبِيحَتَهَا رُبَّمَا كَانَ أَدَاءُ صَلاتِهِ بِاللَّيْلِ، فَأَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالإِسْفَارِ بِمِقْدَارِ مَا يَتَيَقَّنُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ، وَقَالَ:" إِنَّكُمْ كُلَمْا أَصْبَحْتُمْ" يُرِيدُ بِهِ تَيَقَّنْتُمْ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ، كَانَ أَعْظَمَ لأُجُورِكُمْ مِنْ أَنْ تُؤَدُّوا الصَّلاةَ بِالشَّكِّ.
سیدنا رافع بن خدیج، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ صبح کے ہمراہ صبح کرو، کیونکہ تم لوگ جب بھی صبح کے ہمراہ صبح کرو گے تو یہ تمہارے اجر کے لئے زیادہ فضیلت رکے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے اجر کے لئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کو روشنی کرنے کا حکم دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکم میں علت پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب صبح اندھیرے میں ہی نماز ادا کرنا شروع کر دیتے تھے، تو چاندنی راتوں میں جب انسان صبح کی نماز صبح صادق کے وقت اندھیرے میں ادا کرنے کا ارادہ کر لے گا، تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی نماز رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی) شروع ہو جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی روشنی کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو جائے کہ صبح صادق طلوع ہو چکی ہے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ جب صبح کرو“ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تمہیں صبح صادق ہو جانے کا یقین ہو جائے، تو یہ بات تمہارے لیے زیادہ اجر کا باعث ہو گی بہ نسبت اس کے کہ تم نماز کو شک کے ہمراہ ادا کرو۔ (یعنی ابھی اس کا وقت شروع ہونے کے بارے میں تمہیں شک ہو) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1487»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الإرواء» (258)، «صحيح أبي داود» (451).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، ابن عجلان: هو محمد، وثقه غير واحد، وأخرج حديثه أصحاب السنن، وروى له مسلم في المتابعات، وليس هذا الحديث مما تكلم فيه بعضهم، وقد توبع عليه، وباقي السند على شرطهما غير محمود بن لبيد، فإنه لم يخرج له البخاري، وهو صحابي صغير، جل روايته عن الصحابة.
الرواة الحديث:
محمود بن لبيد الأشهلي ← رافع بن خديج الأنصاري