صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب فرض الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْجُدِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا نُهِيَنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْتِيَهُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ، فَزَعَمَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ:" الِلَّهِ"، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالأَرْضَ، وَنَصَبَ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ، آلِلَّهِ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَدَقَةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَال: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا، قَالَ:" صَدَقَ"، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آلِلَّهِ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ، وَلا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا، فَلَمَّا قَفَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْوُضُوءِ، وَالتَّيَمُّمِ، وَالاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَالصَّوْمِ الْفَرْضِ، وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کریں۔ تو ہماری یہ خواہش ہوتی تھی کہ کوئی دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو، اور آپ سے سوال کرے، تو ہم اسے سن لیا کریں۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا پیغام رساں ہمارے پاس آیا تھا۔ اس نے یہ بات بیان کی: آپ یہ کہتے ہیں،اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا: آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے، اس نے دریافت کیا: زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: ان پہاڑوں کو کس نے قائم کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا: ان میں فائدے کس نے رکھے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: پھر وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور پہاڑوں کو نصب کیا ہے، اور ان میں منافع رکھے ہیں اس کی قسم دے کر میں (آپ سے دریافت کرتا ہوں) کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے، ہم پر (روزانہ) پانچ نمازیں پڑھنا لازم ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے، اس نے دریافت کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو بھیجا ہے کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے، ہمارے اموال میں زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔ اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اس نے کہا: آپ کے مبلغ نے یہ بات بھی بتائی ہے، ہم پر پورے سال میں ایک مہینے کے روزے رکھنا فرض ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا: ہے۔ اس شخص نے کہا: آپ کو اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے۔ کیااللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نوعیت کے احکام جیسے وضو، تیمم، غسل جنابت، پانچ نمازیں، فرض روزہ اور اس جیسے دیگر احکام مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتے ہیں، تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 155]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نوعیت کے احکام جیسے وضو، تیمم، غسل جنابت، پانچ نمازیں، فرض روزہ اور اس جیسے دیگر احکام مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتے ہیں، تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 155]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح. محمد بن الخطاب البلدي: ذكره المؤلف في "الثقات" 9/ 139، فقال: سكن الموصل، يروي عن المؤمل بن إسماعيل، وأبي نعيم والكوفيين، حدثنا عنه أبو يعلى وأهل الموصل، وباقي السند رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري