صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
15. باب الاعتصام بالسنة وما يتعلق بها نقلا وأمرا وزجرا - ذكر إيجاب الجنة لمن أطاع الله ورسوله فيما أمر ونهى-
سنت پر مضبوطی سے جمے رہنے اور اس سے متعلق نقل، حکم اور ممانعت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام و نواہی پر عمل کرے گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 17
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ بِنِيسَابُورَ، قَالا: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ كُلُّكُمْ إِلا مَنْ أَبَى وَشَرَدَ عَلَى اللَّهِ كَشِرَادِ الْبَعِيرِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَأْبَى أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ:" مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: طَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ الانْقِيَادُ لِسُنَّتِهِ بِتَرْكِ الْكَيْفِيَّةِ وَالْكَمِّيَّةِ فِيهَا، مَعَ رَفْضِ قَوْلِ كُلِّ مَنْ قَالَ شَيْئًا فِي دِينِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا بِخِلافِ، سُنَّتِهِ دُونَ الاحْتِيَالِ فِي دَفْعِ السُّنَنِ بِالتَّأْوِيلاتِ الْمُضْمَحِلَّةِ، وَالْمُخْتَرَعَاتِ الدَّاحِضَةِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم سب لوگ ضرور جنت میں داخل ہو گے۔ ماسوائے اس شخص کے، جو انکار کرے اوراللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے، جس طرح اونٹ سرکشی کرتا ہے۔، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون شخص جنت میں داخل ہونے سے انکار کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میری اطاعت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری یہ ہے: آپ کی سنت کی، اس کی کیفیت اور کمیت کو ترک کرتے ہوئے پیروی کی جائے اور ہر اس شخص کے قول کو مسترد کرتے ہوئے جس نےاللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں اپنی کوئی رائے پیش کی ہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے برخلاف ہو۔ آدمی اس سنت کو ترک کرنے کے لئے کمزور تاویلات اور فضول اختراعی باتوں کا حیلہ پیش کرنے کی کوشش نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 17]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:)اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری یہ ہے: آپ کی سنت کی، اس کی کیفیت اور کمیت کو ترک کرتے ہوئے پیروی کی جائے اور ہر اس شخص کے قول کو مسترد کرتے ہوئے جس نےاللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں اپنی کوئی رائے پیش کی ہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے برخلاف ہو۔ آدمی اس سنت کو ترک کرنے کے لئے کمزور تاویلات اور فضول اختراعی باتوں کا حیلہ پیش کرنے کی کوشش نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/المقدمة/حدیث: 17]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2044).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات، رجال مسلم إلا خلف بن خليفة - وهو ابن صاعد الأشجعي مولاهم أبو أحمد التابعي - تغير قبل موته واختلط، ونسبه الهيثمي في "مجمع الزوائد" 10/ 70، إلى الطبراني في "الأوسط"، وقال: ورجاله رجال الصحيح.
الرواة الحديث:
المسيب بن رافع الأسدي ← أبو سعيد الخدري