🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
260. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر البيان بأن الصلاة قربان للعبيد يتقربون بها إلى بارئهم جل وعلا
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ نماز بندوں کے لیے قربان ہے جس سے وہ اپنے خالق جل وعلا کے قریب ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1723
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ، إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ" . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ: " الصَّلاةُ قُرْبَانٌ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيَّةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَالنَّاسُ غَادِيَانِ: فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ، فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ، وَمُوبِقُهَا" . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ:" إِنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ"، يُرِيدُ: لَيْسَ مِثْلِي وَلَسْتُ مِثْلَهُ فِي ذَلِكَ الْفِعْلِ وَالْعَمَلِ، وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لأَهْلِ الْحِجَازِ. وَقَوْلُهُ:" لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ"، يُرِيدُ بِهِ جَنَّةً دُونَ جَنَّةٍ، لأَنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ الزِّنَى، وَلا يَدْخُلُ الْعَاقُّ الْجَنَّةَ، وَلا مَنَّانٌ"، يُرِيدُ جَنَّةً دُونَ جَنَّةٍ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ سَنَذْكُرُهُ فِيمَا بَعْدُ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ، إِنْ قَضَى اللَّهُ ذَلِكَ وَشَاءَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے کعب بن عجرہ! میں بیوقوفوں کی حکومت سے تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو شخص ان کے پاس جائے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا اور جو شخص ان کے پاس نہیں جائے گا ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آئے گا اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں آدمی اپنی ذات کا سودا کرتا ہے، تو یا تو اپنی گردن کو آزاد کروا لیتا ہے یا غلام بنوا لیتا ہے۔ اے کعب بن عجرہ! ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا، جس کی نشو و نما حرام سے ہوتی ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیں اس سے آپ کی مراد یہ ہے، اس فعل اور اس عمل کے حوالے سے وہ میری مثل نہیں ہے اور میں اس کی مثل نہیں ہوں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو اہل حجاز کے محاور ے کے مطابق ہیں۔ آپ کا یہ فرمان جنت میں ایسا گوشت داخل نہیں ہو گا جس کی نشو و نما حرام سے ہوئی ہو اس سے آپ کی مراد مخصوص جنت ہے جو دوسری قسم کی جنت کے علاوہ ہو گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت کئی قسم کی ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مانند ہو گی۔ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت میں داخل نہیں ہو گا، (والدین کا) نافرمان جنت میں داخل نہیں ہو گا، احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ اس سے مراد ایک (قسم کی) جنت کی بجائے (دوسری قسم کی) جنت ہے۔ یہ ایک طویل باب ہے اگراللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا اور چاہا تو ہم اس کتاب (یعنی باب) کے بعد (آگے آنے والے کسی باب میں) اس کا ذکر کریں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1723]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1720»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 350)، «الظلال» (756).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن سابط القرشي
Newعبد الرحمن بن سابط القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة كثير الإرسال
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← عبد الرحمن بن سابط القرشي
مقبول
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عبد الله بن عثمان القاري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة
👤←👥عمران بن موسى الجرجاني، أبو إسحاق
Newعمران بن موسى الجرجاني ← هدبة بن خالد القيسي
ثقة ثبت