صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
261. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر إثبات الفلاح لمصلي الصلوات الخمس
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - پانچوں نمازوں کی ادائیگی کرنے والے کے لیے فلاح کے اثبات کا ذکر
حدیث نمبر: 1724
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، ثَائِرَ الرَّأْسِ، يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ، حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ". قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ:" لا، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ". قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ". قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:" لا، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ". قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لا، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ". قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ شَيْئًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ" .
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ نجد سے تعلق رکھتا تھا اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی۔ وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا۔ وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں۔ اس نے دریافت کیا کہ کیا ان (کے علاوہ کوئی اور نماز) بھی مجھ پر لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ البتہ تم نفل (نماز ادا کر لو تو یہ مناسب ہے) راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (لازم ہیں) اس نے دریافت کیا کہ ان کے علاوہ (کوئی اور روزہ رکھنا) مجھ پر لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں البتہ اگر تم نفل (روزہ رکھ لو) تو یہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوۃ کا تذکرہ کیا، تو اس نے یہی دریافت کیا کہ اس کے علاوہ کوئی اور ادائیگی بھی مجھ پر لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ دو تو یہ بہتر ہے) راوی بیان کرتے ہیں پھر وہ شخص یہ کہتے ہوئے چل دیا اللہ کی قسم! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی چیز کی کمی کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے، تو یہ کامیاب ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1724]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1721»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو سهيل بن مالك: هو نافع بن مالك بن أبي عامر الأصبحي التيمي المدني.
الرواة الحديث:
مالك بن أبي عامر الأصبحي ← طلحة بن عبيد الله القرشي