صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
45. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان بكل ما أتى به النبي صلى الله عليه وسلم من الإيمان مع العمل به-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - وضاحت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لائے، اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 175
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقَدْ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَفَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مَنَي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّ الإِسْلامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَفَرَّدَ بِهِ شُعْبَةُ، وَفِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الإِيمَانَ أَجْزَاءٌ، وَشُعَبٌ تَتَبَايَنُ أَحْوَالُ الْمُخَاطَبِينَ فِيهَا، لأَنَّهُ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِي هَذَا الْخَبَرِ:" حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ"، فَهَذَا هُوَ الإِشَارَةُ إِلَى الشُّعْبَةِ الَّتِي هِيَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي جَمِيعِ الأَحْوَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ"، فَذَكَرَ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، ثُمَّ قَالَ:" وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ"، فَذَكَرَ الشَّيْءَ الَّذِي هُوَ فَرْضٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الطَّاعَاتِ الَّتِي تُشْبِهُ الأَشْيَاءَ الثَّلاثَةَ الَّتِي ذَكَرَهَا فِي هَذَا الْخَبَرِ مِنَ الإِيمَانِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرتا رہوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں، جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ اپنی جانوں اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، البتہ اسلام کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو نقل کرنے میں شعبہ نامی راوی منفرد ہے، اور اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ ایمان کے اجزاء اور شعبے ہوتے ہیں، جو اس بارے میں مخاطب لوگوں کے احوال کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے: ”یہاں تک کہ وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔“ تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ یہ وہ شعبہ ہے جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور وہ نماز قائم کریں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور وہ زکاۃ ادا کریں“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام نیکیاں، جو ان تین چیزوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جن کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ذکر کیا ہے، یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 25، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 22، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 175، 219، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5222، 6597، 16833، والدارقطني فى (سننه) برقم: 898، 899، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8510»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (408): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، إبراهيم بن محمد بن عرعرة: ثقة، حافظ، تكلم أحمد في بعض سماعه، وباقي السند رجاله رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 175 in Urdu
محمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي