الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
46. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى ببعض أجزائه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس شخص پر ایمان کا نام لگایا جانا جس نے اس کے بعض اجزاء پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 176
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" سَرَّتْكَ حَسَنَاتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَاتُكَ، فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الإِثْمُ؟ قَالَ:" حَاكَ فِي قَلْبِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری نیکیاں تمہیں اچھی لگیں اور تمہاری برائیاں تمہیں بری لگیں، تو تم مومن ہو۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے، تو تم اسے چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 176]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (550).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، وقد خرج أصحاب الصحاح ليحيى بن أبي كثير بالعنعنة، وجد زيد بن سلام هو ممطور الأسود الحبشي أبو سلام.
الرواة الحديث:
ممطور الأسود الحبشي ← صدي بن عجلان الباهلي