صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
306. باب صفة الصلاة - ذكر ما يدعو المرء به بعد افتتاح الصلاة قبل القراءة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی نماز کے آغاز کے بعد قراءت سے پہلے مانگتا ہے
حدیث نمبر: 1771
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ، لا يَهْدِينِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے اور مسلمان ہوتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔“ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔“ «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں۔ تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دے۔ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے اور اچھے اخلاق کی طرف تو میری رہنمائی کر دے کیونکہ اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ سعادت تیری طرف سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے، وہ شخص ہدایت یافتہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے، میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 835، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1274، 1353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1768»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (738): م دون قوله: «المكتوبة»، و «المهديُّ من هديت».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، يوسف بن مسلم: هو يوسف بن سعيد بن مسلم المصيصي، روى له النسائي، ثقة، ومن فوقه على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1771 in Urdu
عبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي