صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
318. باب صفة الصلاة - ذكر وصف المناجاة التي يكون المرء في صلاته بها مناجيا لربه عز وجل
نماز کے طریقہ کا بیان - اس مناجات کی کیفیت کا ذکر جو آدمی اپنی نماز میں اپنے رب عز وجل سے کرتا ہے
حدیث نمبر: 1784
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ،، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ" . فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ. قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ. فَإِنِّي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَءُوا، يَقُولُ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، يَقُولُ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، يَقُولُ اللَّهُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، يَقُولُ الْعَبْدُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ. غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7، فَهَؤُلاءِ لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا وہ نماز نامکمل ہوتی ہے وہ نامکمل ہوتی ہے وہ پوری نہیں ہوتی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے میری کلائی پر چھبوتے ہوئے فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں نے نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے اور اس کا نصف حصہ میرے بندے کیلئے۔ میرا بندہ جو مانگتا ہے وہ اسے ملے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم لوگ تلاوت شروع کرو۔ بندہ کہتا ہے، تمام جہانوں کے پروردگار اللہ کے لئے ہر طرح کی حمد مخصوص ہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے، بندہ کہتا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے۔ بندہ کہتا ہے وہ روز جزاء کا مالک ہے۔ اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ بندہ کہتا ہے بیشک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں، تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ اس نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔ بندہ کہتا ہے: ”تو ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا۔ نہ کہ ان لوگوں کے راستے پر جن پر غضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے۔“ تو یہ چیزیں میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1784]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1781»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (502)، و «صحيح أبي داود» (779): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عبد الله بن السائب الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي