علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
317. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن الفرض على المأموم والمنفرد قراءة فاتحة الكتاب في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مأموم اور منفرد پر اپنی نماز میں سورۃ الفاتحہ کی قراءت فرض ہے
حدیث نمبر: 1783
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ، فَلا يَبْصُقْ أَمَامَهُ، لأَنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ مَا دَامَ فِي صَلاتِهِ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ فَيَدْفِنُهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ عَلَى الْمَأْمُومِ قِرَاءَةُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي صَلاتِهِ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ، وَالْمُنَاجَاةُ لا تَكُونُ إِلا بِنُطْقِ الْخَطَّابِ دُونَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالسُّكُوتِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہو تو اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کی دائیں طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے وہ اپنے بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اسے دفن کر دینا چاہئے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ مقتدی پر بھی نماز کے دوران سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اطلاع دی ہے کہ نمازی اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے، اور مناجات اس وقت ہو سکتی ہیں جب لفظی طور پر کسی کو مخاطب کیا جائے، تسبیح یا تکبیر پڑھنے یا خاموش رہنے پر (مناجات کا اطلاق نہیں ہوتا) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1783]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 408، 410، 416، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 548، 550، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 875، 1310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1783، 2268، 2269، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 308، وأبو داود فى (سننه) برقم: 477، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 761، 1022، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7523» «رقم طبعة با وزير 1780»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1062 و 1223).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري- وإن كان كثير الأوهام- قد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1783 in Urdu
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي