صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
342. باب صفة الصلاة - ذكر الأمر بالتسبيح والتحميد والتهليل والتكبير في الصلاة لمن لا يحسن قراءة فاتحة الكتاب
نماز کے طریقہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص سورۃ الفاتحہ کی قراءت نہ جانتا ہو، وہ نماز میں تسبیح، تحمید، تہلیل اور تکبیر کہے
حدیث نمبر: 1809
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لا أُحْسِنُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنْهُ. فَقَالَ: " قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ". قَالَ: هَذَا لِرَبِّي، فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي" .
سیدنا ابن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میں قرآن کی ٹھیک طور پر تلاوت نہیں کر سکتا آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جو اس کی جگہ میرے لیے کافی ہو۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ پڑھو۔ «سبحان الله والحمدللہ واللہ اکبر» ۔ اس شخص نے عرض کی: یہ تو میرے پروردگار کی (تعریف کے طور پر اس کے) لیے ہوا میرے لیے کیا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھو۔ ”اے اللہ تو میری مغفرت کر تو مجھ پر رحم کر مجھے رزق عطا کر اور تو مجھے عافیت نصیب کر۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1809]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1806»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن من أجل إبراهيم السكسكي، وهو مكرر ما قبله.
الرواة الحديث:
إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي