صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
391. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 1859
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يَشْكُونَ سَعْدًا ، حَتَّى قَالُوا لَهُ: إِنَّهُ لا يُحْسِنُ الصَّلاةَ، فَقَالَ: عَهْدِي بِهِ وَهُوَ حَسَنُ الصَّلاةِ. فَدَعَاهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" أَمَّا صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدْ صَلَّيْتُ بِهِمْ، أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ" . فَقَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَبَا إِسْحَاقَ. فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَسْأَلُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ، فَطِيفَ بِهِ فِي مَسَاجِدِ الْكُوفَةِ، فَلَمْ يُقَلْ لَهُ إِلا خَيْرٌ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَسْجِدِ بَنِي عَبْسٍ، فَإِذَا رَجُلٌ يُدْعَى أَبَا سَعْدَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لا يَنْفِرُ فِي السَّرِيَّةِ، وَلا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، وَلا يَعْدِلُ فِي الْقَضِيَّةِ. قَالَ: فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَاذِبًا فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَشَدِّدْ فَقْرَهُ، وَاعْرِضْ عَلَيْهِ الْفِتَنَ. قَالَ: فَزَعَمَ ابْنُ عُمَيْرٍ أَنَّهُ رَآهُ قَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ، قَدِ افْتَقَرَ، وَافْتُتِنَ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، يُسْأَلُ كَيْفَ أَنْتَ أَبَا سَعْدَةَ؟ فَيَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ مَفْتُونٌ، أُجِيبَتْ فِيَّ دَعْوَةُ سَعْدٍ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران اہل کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: کہ کچھ عرصہ پہلے تک تو وہ بہت عمدہ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تعلق ہے میں ان لوگوں کو وہ نماز (یعنی اس طریقے کے مطابق نماز) پڑھاتا ہوں میں پہلی دو رکعت طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات نسبتاً مختصر ادا کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابواسحاق اپ کے بارے میں یہی گمان تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہمراہ ایسے شخص کو بھیجا جو ان کے بارے میں کوفہ میں دریافت کرے۔ اس نے انہیں ساتھ لے کر کوفہ کی تمام مساجد کا چکر لگایا ہر شخص نے ان کے بارے میں بھلائی کی بات کہی۔ یہاں تک کہ جب وہ بنو عبس کی مسجد کے قریب پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جس کا نام ابوسعدہ تھا تو وہ بولا: اللہ جانتا ہے یہ کسی جنگی مہم کیلئے نہیں نکلتے اور (مال غنیمت کو) برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہوئے انصاف سے کام نہیں لیتے۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور بولے: اے اللہ! اگر شخص جھوٹا تو ہے، تو اس کی عمر کو لمبا کر دے اور اس کی غربت کو شدید کر دے اور اس پر آزمائش ڈال دے۔ راوی کہتے ہیں: عمیر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ انہوں نے اس شخص کو دیکھا کہ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کی بھنویں اس کی آنکھوں پر آ رہی ہیں وہ انتہائی غریب تھا اور آزمائش میں مبتلا ہو گیا تھا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملتی تھی۔ اس سے دریافت کیا گیا: اے ابوسعدہ! تمہارا کیا حال ہے، تو وہ کہتا تھا ایک عمر رسیدہ بوڑھا شخص جو آزمائش کا شکار ہے۔ میرے بارے میں سیدنا سعد کی بددعا قبول ہو گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1856»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (765): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
جابر بن سمرة العامري ← سعد بن أبي وقاص الزهري