صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
58. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن العرب في لغتها تضيف الاسم إلى الشيء للقرب من التمام وتنفي الاسم عن الشيء للنقص عن الكمال-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کا بیان کہ عرب اپنی زبان میں کسی چیز کے قریبِ کمال ہونے پر اس کا نام اس چیز سے منسوب کرتے ہیں اور کمال میں کمی ہونے پر اس سے نام کو نفی کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 188
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقَبْلُ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قَالُوا: الِلَّهِ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوَاكِبِ" .
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی، اس سے پہلے رات کے وقت بارش ہو چکی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار نے کیا بات ارشاد فرمائی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ بندے کافر ہیں؛ جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے، تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا انکار کرتا ہے، اور جو شخص یہ کہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے، تو وہ شخص میرا انکار کرتا ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 846، 1038، 4147، 7503، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 71، ومالك فى (الموطأ) برقم: 653، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 188، 6132، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1524، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1846، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3906، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17309، والحميدي فى (مسنده) برقم: 832»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (3/ 144 / 681): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 188 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← زيد بن خالد الجهني