Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
416. باب صفة الصلاة - ذكر وصف بعض السجود والركوع للمصلي في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - نمازی کے لیے سجدے اور رکوع کی بعض کیفیت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1887
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْهَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَلِمَاتٌ أَسْأَلُ عَنْهُنَّ. قَالَ:" اجْلِسْ". وَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِيفٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَلِمَاتٌ أَسْأَلُ عَنْهُنَّ. فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ الأَنْصَارِيُّ". فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: إِنَّهُ رَجُلٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّ لِلْغَرِيبِ حَقًّا، فَابْدَأْ بِهِ. فَأَقْبَلَ عَلَى الثَّقَفِيِّ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَجَبْتُكَ عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُ، وَإِنْ شِئْتَ سَأَلْتَنِي وَأُخْبِرْكَ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ أَجِبْنِي عَمَّا كُنْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ، وَالصَّلاةِ، وَالصَّوْمِ". فَقَالَ: لا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَخْطَأْتَ مِمَّا كَانَ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ: " فَإِذَا رَكَعْتَ، فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، ثُمَّ فَرِّجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، ثُمَّ أَمْكُثْ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، وَإِذَا سَجَدْتَ، فَمَكِّنْ جَبْهَتَكَ، وَلا تَنْقُرُ نَقْرًا، وَصَلِّ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ". فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَإِنْ أَنَا صَلَّيْتُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" فَأَنْتَ إِذًا مُصَلٍّ، وَصُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ". فَقَامَ الثَّقَفِيُّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ عَمَّا جِئْتَ تَسْأَلُ، وَإِنْ شِئْتَ سَأَلْتَنِي فَأُخْبِرْكَ". فَقَالَ: لا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي عَمَّا جِئْتُ أَسْأَلُكَ. قَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْحَاجِّ مَا لَهُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَقُومُ بِعَرَفَاتٍ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَرْمِي الْجِمَارَ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَحْلِقُ رَأْسَهُ؟ وَمَا لَهُ حِينَ يَقْضِي آخِرَ طَوَافٍ بِالْبَيْتِ؟". فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَخْطَأْتَ مِمَّا كَانَ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ:" فَإِنَّ لَهُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ أَنَّ رَاحِلَتَهُ لا تَخْطُو خُطْوَةً إِلا كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، فَإِذَا وَقَفَ بِعَرَفَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي شُعْثًا غُبْرًا، اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ذُنُوبَهُمْ، وَإِنْ كَانَ عَدَدَ قَطْرِ السَّمَاءِ وَرَمْلِ عَالِجٍ. وَإِذَا رَمَى الْجِمَارَ لا يَدْرِي أَحَدٌ لَهُ مَا لَهُ حَتَّى يُوَفَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا حَلَقَ رَأْسَهُ فَلَهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَقَطَتْ مِنْ رَأْسِهِ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا قَضَى آخِرَ طَوَافِهِ بِالْبَيْتِ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کچھ کلمات ہیں، جن کے بارے میں، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ پھر ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کچھ کلمات ہیں، جن کے بارے میں، میں جاننا چاہتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاری شخص تم سے سبقت لے گیا ہے۔ انصاری نے کہا: یہ شخص مسافر ہے اور مسافر کا حق ہوتا ہے آپ اس سے آغاز کیجئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ثقفی شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں، جس کے بارے میں تم دریافت کرنا چاہتے تھے اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے پوچھ لو میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مجھ سے رکوع و سجود نماز اور روزے کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے تھے، تو اس نے کہا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ میرے ذہن میں جو تھا آپ نے اس کے بارے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ لو تم اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھو اور تم اتنی دیر وہاں ٹھہرے رہو، ہر عضو اپنی جگہ پر آ جائے۔ جب تم سجدے میں جاؤ تو اپنی پیشانی کو جما کر رکھو تم ٹھونگ نہ مارو تم دن کے ابتدائی حصے اور اس کے آخری حصے میں نماز ادا کرو۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر میں ان دونوں کے درمیان میں نماز ادا کر لیتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تم نمازی ہو گئے۔ تم ہر مہینے میں تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزے رکھو تو وہ ثقفی شخص کھڑا ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انصاری کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں، جس کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تم آئے ہو اور اگر تم چاہو تو تم مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں خبر دوں گا اس نے عرض کی: جی نہیں۔ اے اللہ کے نبی! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتا دیجئے جس کے بارے میں، میں آپ سے دریافت کرنا چاہتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے حاجی کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے تھے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں جب وہ عرفات میں قیام کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں جب وہ جمرات کو کنکریاں مارتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں اور جب وہ آخر میں بیت اللہ کا طواف کرتا ہے، تو اس کے کیا احکام ہوتے ہیں۔ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، جو چیز میرے ذہن میں تھی اس کے بارے میں آپ نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کے لئے حکم یہ ہے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کی سواری جو بھی قدم اٹھاتی ہے اس کے بدلے میں اس شخص کو نیکی ملتی ہے یا اس کے کسی گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے، جب وہ حاجی عرفہ میں وقوف کرتا ہے، تواللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول کرتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے: میرے ان بکھرے ہوئے بالوں اور غبار آلود (اجسام) والے بندوں کو دیکھو تم لوگ گواہ ہو جاؤ، میں نے ان کے گناہوں کی مغفرت کر دی ہے۔ اگرچہ وہ آسمان (یعنی بارش) کے قطروں کے برابر ہوں اور ریت کے ذروں کے برابر ہوں جب حاجی جمرات کو کنکریاں مارتا ہے تو کوئی شخص یہ نہیں جان سکتا، اسے کیا اجر و ثواب ملے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا اجر و ثواب مکمل طور پر اسے دیا جائے گا، جب وہ اپنے سر کو منڈواتا ہے، تو اس کے سر سے گرنے والے ہر ایک بال کے عوض میں قیامت کے دن اسے نور نصیب ہو گا اور جب وہ بیت اللہ کا آخری طواف کرتا ہے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں باہر آ جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1884»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «التعليق الرغيب» (2/ 129 - 130). * [عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ] قال الشيخ: مدلس، انظر الحديث (1754). تنبيه!! رقم (1754) = (1757) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف، يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي، قال أبو حاتم: شيخ لا أرى في حديثه إنكاراً، يروي عن عبيدة بن الأسود أحاديث غرائب، وقال الدارقطني: صالح يعتبر به، وذكره المؤلف في «الثقات»، وقال ربما خالف، وعبيدة بن الأسود: ذكره المؤلف أيضاً في الثقات 8/ 437، وقال: يعتبر حديثه إذا بين السماع في روايته، وكان فوقه ودونه ثقات، والقاسم بن الوليد: وثقه ابن معين، والعجلي، وابن سعد، وذكره المؤلف في «الثقات» 7/ 338، وقال: يخطئ ويخالف، وقال الحافظ في «التقريب»: صدوق يغرب، وسنان بن الحارث: لم يوثقه غير المؤلف.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥طلحة بن مصرف الإيامي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newطلحة بن مصرف الإيامي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥سنان بن الحارث الأيامي
Newسنان بن الحارث الأيامي ← طلحة بن مصرف الإيامي
مجهول الحال
👤←👥القاسم بن الوليد الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن الوليد الهمداني ← سنان بن الحارث الأيامي
ثقة
👤←👥عبيدة بن الأسود الهمداني
Newعبيدة بن الأسود الهمداني ← القاسم بن الوليد الهمداني
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي
Newيحيى بن عبد الرحمن الأرحبي ← عبيدة بن الأسود الهمداني
صدوق ربما يخطئ
👤←👥محمد بن عمر الصائدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عمر الصائدي ← يحيى بن عبد الرحمن الأرحبي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسين بن محمد البجلي، أبو علي
Newالحسين بن محمد البجلي ← محمد بن عمر الصائدي
ثقة