صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
428. باب صفة الصلاة - ذكر الإباحة للمرء أن يفوض الأشياء كلها إلى بارئه جل وعلا في دعائه في ركوعه في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کے رکوع میں دعا کرتے ہوئے سب چیزیں اپنے خالق جل وعلا کے سپرد کر دے
حدیث نمبر: 1901
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" .
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع میں جاتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”اے اللہ! تیرے لیے میں نے رکوع کیا، تجھ پر ہی میں ایمان لایا، تیرے لیے میں نے اسلام قبول کیا، تو میرا پروردگار ہے۔ میری سماعت، میری بصارت، میرا گودا، میری ہڈیاں، میرے پٹھے اور میرے دونوں پاؤں پر جو چیز قائم ہے (یعنی میرا پورا وجود) اللہ کے حضور جھکا ہوا ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1898»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (738): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما غير أحمد بن إبراهيم الدورقي، فإنه من رجال مسلم، حجاج: هو ابن محمد الأعور.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1901 in Urdu
عبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي