پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
432. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي أن يفوض الأشياء إلى بارئه عند تحميد ربه جل وعلا في الموضع الذي وصفنا من صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ مقام پر اپنے رب جل وعلا کی حمد کرتے ہوئے سب چیزیں اپنے خالق کے سپرد کرے
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيُّ ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَالَ:" رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلُ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» پڑھ لیتے تھے، پھر آپ یہ پڑھتے تھے۔ ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لئے مخصوص ہے، جو آسمانوں جتنی بھری ہوئی ہو زمین جتنی بھری ہوئی ہو اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے اتنی بھری ہوئی ہو، تو تعریف اور بزرگی کا اہل ہے وہ چیز سب سے زیادہ حق ہے، جو ایک بندے نے کہی ہے۔ ویسے ہم سب تیرے بندے ہیں (اس بندے نے یہ کہا: ہے) جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے اور تیری مرضی کے مقابلے میں کسی بھی صاحب حیثیت شخص کی حیثیت فائدہ نہیں دیتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 477، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 613، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1905، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1067، وأبو داود فى (سننه) برقم: 847، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12007» «رقم طبعة با وزير 1902»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»، «صحيح أبي داود» (793): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح غير أحمد بن أبي الحواري –وهو أحمد بن عبد الله بن ميمون- وهو ثقة، أبو مسهر: هو عبد الأعلى بن مسهر الغساني.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1905 in Urdu
قزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري