صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
491. باب صفة الصلاة - ذكر ما يدعو المرء في عقيب التشهد قبل السلام
نماز کے طریقہ کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے مانگتا ہے
حدیث نمبر: 1966
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ آخِرُ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخَّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان سب سے آخر میں یہ پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ! میں نے جو پہلے کیا جو بعد میں کروں گا، جو پوشیدہ طور پر کیا، اور جو اعلانیہ طور پر کیا، اور جو زیادتی کی اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں، تو مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے، تو اس سب کے حوالے سے میری مغفرت کر دے۔ بے شک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1966]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1963»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، بحر بن نصر: ثقة، ومن فوقه من رجال الشيخين غير يعقوي والد يوسف، فإنه من رجال مسلم.
الرواة الحديث:
عبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي