صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
500. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الدعاء بما ليس في كتاب الله يبطل صلاة الداعي فيها
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ایسی دعا جو اللہ کی کتاب میں نہ ہو، داعین کی نماز کو باطل کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 1975
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَمَسَ شَيْئًا لا نَفْهَمُهُ، فَقَالَ:" أَفَطِنْتُمْ لِي؟". قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ:" إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالَ: مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلاءِ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلاثٍ: إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، أَوِ الْجُوعَ، أَوِ الْمَوْتَ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ نَكِلُ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا، فَقَامَ إِلَى صَلاتِهِ، وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلاةِ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، أَمَّا عَدُوُّهُمْ مِنْ غَيْرِهِمْ وَالْجُوعُ فَلا، وَلَكِنِ الْمَوْتُ، فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا، فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنْ أَقُولَ: اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ، وَبِكَ أُصَاوِلُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَ صُهَيْبٌ سَنَةَ ثَمَانٍ وَثَلاثِينَ فِي رَجَبٍ فِي خِلافَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَوُلِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لِسَنَتَيْنِ مَضَتَا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں کوئی بات کہی جس کو ہم سمجھ نہیں سکے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تم نے میری بات سمجھ لی ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک نبی کا ذکر کیا ہے جنہیں ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لشکر دیئے گئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کون ان کا سامنا کر سکتا ہے، تواللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی تم اپنی قوم میں سے ایک تہائی حصے کو اختیار کرو یا تو میں ان پر ایسا دشمن مسلط کروں گا، جو دوسروں میں سے ہو گا یا ان پر بھوک یا موت مسلط کر دوں گا۔ اس نبی نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم یہ معاملہ آپ کے سپرد کرتے ہیں۔ آپ ہمارے لئے اسے اختیار کر لیجئے، تو وہاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ جباللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے، تو نماز کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس نبی نے جتنا اللہ کو منظور تھا نماز ادا کی پھر انہوں نے عرض کی: اے میرے پروردگار جہاں تک دوسری قوم سے تعلق رکھنے والے ان کے دشمن کے تسلط کا تعلق ہے یا بھوک کا تعلق ہے، تو وہ ان پر مسلط نہ ہو، البتہ موت ہو جائے، تو ان پر تین دن تک کی موت کو مسلط کیا گیا تو ان میں سے ستر ہزار لوگ انتقال کر گئے۔ ابھی جو تم نے میری سرگوشی دیکھی تھی۔ اس میں، میں نے یہ دعا کی تھی۔ اے اللہ! میں تیری مدد سے لڑائی کرتا ہوں اور تیری مدد سے حملہ کرتا ہوںاللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں رجب کے مہینے میں 38 ہجری میں ہوا جبکہ عبدالرحمن بن ابولیلی کی پیدائش سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ہوئی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1972»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1061)، وانظر ما يأتي برقم (2025). تنبيه!! رقم (2025) = (2027) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← صهيب الرومي