صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
501. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن دعاء المرء في صلاته بما ليس في كتاب الله جل وعلا يفسد عليه صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ آدمی کا اپنی نماز میں ایسی دعا مانگنا جو اللہ جل وعلا کی کتاب میں نہ ہو، اس کی نماز کو فاسد کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 1976
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي، قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي، مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو سیدنا ابوبکر صدیق کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی۔ آپ مجھے کسی ایسی دعا کی تعلیم دیجئے جو میں نماز کے دوران مانگ لیا کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھا کرو۔ ”اے اللہ! میں نے اپنے اوپر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، تو اپنی بارگاہ سے میری مغفرت عطا کر دے اور مجھ پر رحم کر بے شک تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1973»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، أبو الخير: هو مَرْثد بن عبد الله اليزني.
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمرو السهمي ← أبو بكر الصديق