🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
511. فصل في القنوت - ذكر الخبر الدال على أن الحادثة إذا زالت لا يجب على المرء القنوت حينئذ
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جب واقعہ ختم ہو جائے تو آدمی پر قنوت واجب نہیں رہتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1986
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الْعَتَمَةِ شَهْرًا، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمْ يَدَعْ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا؟" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ الْقُنُوتَ إِنَّمَا يُقْنَتُ فِي الصَّلَوَاتِ عِنْدَ حُدُوثِ حَادِثَةٍ، مِثْلَ ظُهُورِ أَعْدَاءِ اللَّهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، أَوْ ظُلْمِ ظَالِمٍ ظُلِمَ الْمَرْءُ بِهِ، أَوْ تَعَدَّى عَلَيْهِ، أَوْ أَقْوَامٍ أَحَبَّ أَنْ يَدْعُوَ لَهُمْ، أَوْ أَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ، وَأَحَبَّ الدُّعَاءَ لَهُمْ بِالْخَلاصِ مِنْ أَيْدِيهِمْ، أَوْ مَا يُشْبِهُ هَذِهِ الأَحْوَالَ، فَإِذَا كَانَ بَعْضُ مَا وَصَفْنَا مَوْجُودًا، قَنَتَ الْمَرْءُ فِي صَلاةٍ وَاحِدَةٍ، أَوِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا، أَوْ بَعْضِهَا دُونَ بَعْضٍ بَعْدَ رَفْعِهِ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاتِهِ، يَدْعُو عَلَى مَنْ شَاءَ بِاسْمِهِ، وَيَدْعُو لِمَنْ أَحَبَّ بِاسْمِهِ، فَإِذَا عَدَمِ مِثْلَ هَذِهِ الأَحْوَالِ لَمْ يَقْنُتْ حِينَئِذٍ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاتِهِ، إِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَيَدْعُو لِلْمُسْلِمِينَ بِالنَّجَاةِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ يَوْمًا مِنَ الأَيَّامِ تَرَكَ الْقُنُوتَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا؟" فَفِي هَذَا أَبْيَنُ الْبَيَانِ عَلَى صِحَّةِ مَا أَصَّلْنَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی تھی، آپ قنوت نازلہ میں یہ پڑھتے تھے، اے اللہ! تو ولید بن ولید کو نجات عطا کر اے اللہ! تو سلمہ بن ہشام کو نجات عطا کر عیاش بن ابوربیعہ کو نجات عطا کر اے اللہ! تو کمزور اہل ایمان کو نجات عطا کر اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنی سختی نازل کر، اے اللہ! ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی مسلط کر دے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے دعا نہیں کی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: تم نے دیکھا نہیں، وہ لوگ آ گئے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کا واضح بیان ہے کہ نماز میں قنوت نازلہ پڑھنا اس وقت ہو گا۔ جب کوئی حادثہ رونما ہو جیسےاللہ تعالیٰ کے دشمن مسلمانوں کے سامنے آ جائیں یا کسی ظالم کے ظلم کی صورت میں ہو گا۔ جب کسی شخص پر ظلم کیا جائے۔ یا اس کے ساتھ زیادتی کی جائے۔ یا کچھ لوگ اس بات کے خواہش مند ہوں کہ ان کے حق میں دعا کی جائے یا کچھ مسلمان مشرکین کے ہاں قید ہوں اور وہ اس دعا کے خواہش مند ہوں کہ ان لوگوں سے نجات کی دعا کی جائے۔ یا کوئی اور صورتحال درپیش ہو، تو ہم نے جن صورتوں کا ذکر کیا ہے۔ تو ان میں سے کوئی صورتحال موجود ہو گی تو آدمی اپنی ایک نماز میں یا تمام نمازوں میں یا کسی ایک نماز کو چھوڑ کر دوسری نماز میں قنوت نازلہ پڑھ لے گا اور وہ اپنی نماز کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اسے پڑھے گا۔ اور وہ جس کے خلاف چاہے گا اس کے خلاف نام لے کر دعا کرے گا۔ اور جس شخص کے حق میں چاہے گا اس کے حق میں نام لے کر دعا کرے گا۔ جب اس طرح کی صورتحال پیش نہ ہو، تو آدمی کسی بھی نماز میں قنوت نازلہ نہیں پڑھے گا۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے خلاف قنوت نازلہ پڑھی تھی۔ اور مسلمانوں کے لیے نجات کی دعا مانگی تھی۔ پھر ایک ایسا دن بھی آیا۔ کہ جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت نازلہ کو پڑھنا ترک کر دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کا تذکرہ کیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں ہے کہ اب وہ لوگ (مشرکین کی قید سے نجات پا کر) آ گئے ہیں۔ تو یہ اس بات کے صحیح ہونے کا واضح بیان ہے۔ جو اصول ہم نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1983»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1966). تنبيه!! رقم (1966) = (1969) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين غير عبد الرحمن بن إبراهيم، فإنه من رجال البخاري.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥عبد الله بن محمد المقدسي، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد المقدسي ← دحيم القرشي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 1986 in Urdu