🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
513. فصل في القنوت - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الزهري عن سالم
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف زہری نے سالم سے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1988
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ حَبِيبُ بْنُ عَرَبِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ " يَدْعُو عَلَى أَقْوَامٍ فِي قُنُوتِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ قَدْ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يُمْعِنِ النَّظَرَ فِي مُتُونِ الأَخْبَارِ، وَلا يَفْقَهُ فِي صَحِيحِ الآثَارِ، أَنَّ الْقُنُوتَ فِي الصَّلَوَاتِ مَنْسُوخٌ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَلْعَنُ فُلانًا وَفُلانًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 فِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلسَّدَادِ، وَهُدَاهُ لِسُلُوكِ الصَّوَابِ، أَنَّ اللَّعْنَ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ فِي الصَّلاةِ غَيْرُ مَنْسُوخٍ، وَلا الدُّعَاءَ لِلْمُسْلِمِينَ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ هَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَمَا تَرَاهُمْ وَقَدْ قَدِمُوا؟"، تُبَيِّنُ لَكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ أَنَّهُمْ لَوْلا أَنَّهُمْ قَدِمُوا وَنَجَّاهُمُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِي الْكُفَّارِ لأَثْبَتَ الْقُنُوتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَاوَمَ عَلَيْهِ، عَلَى أَنَّ فِي قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 لَيْسَ فِيهِ الْبَيَانُ بِأَنَّ اللَّعْنَ عَلَى الْكُفَّارِ أَيْضًا مَنْسُوخٌ، وَإِنَّمَا هَذِهِ آيَةٌ فِيهَا الإِعْلامُ بِأَنَّ الْقُنُوتَ عَلَى الْكُفَّارِ لَيْسَ مِمَّا يُغْنِيهِمْ عَمَّا قَضَى عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبُهُمْ يُرِيدُ: بِالإِسْلامِ يَتُوبُ عَلَيْهِمْ، أَوْ بِدَوَامِهِمْ عَلَى الشِّرْكِ يُعَذِّبُهُمْ، لا أَنَّ الْقُنُوتَ مَنْسُوخٌ بِالآيَةِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قنوتِ نازلہ کے دوران کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرر کیا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] تمہارا اس معاملے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے، بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہے جو روایات کے متون میں غور و فکر سے کام نہیں لیتا اور صحیح روایات کا فہم حاصل نہیں کرتا (اور وہ اس بات کا قائل ہے) کہ نماز میں قنوتِ نازلہ کو پڑھنے کا حکم منسوخ ہے، حالانکہ ایسا نہیں؛ کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول وہ روایت جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس میں یہ بات مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں اور فلاں پر لعنت کرتے رہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128] تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں، اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ اگر اس شخص کو اللہ تعالیٰ سیدھے راستے کی توفیق دے اور درست راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرے (تو وہ یہ بات جان لے گا) کہ کفار اور منافقین پر نماز کے دوران لعنت کرنے کا حکم منسوخ نہیں ہے، اور نہ ہی مسلمانوں کے لیے دعا کرنے کا حکم منسوخ ہے۔ اور اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں ہے: کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ وہ لوگ آ گئے ہیں؟ یہ الفاظ آپ کے سامنے اس بات کو واضح کر دیں گے کہ اگر اب وہ لوگ نہ آئے ہوتے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کفار کے ہاتھوں سے نجات عطا نہ کی ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے قنوتِ نازلہ پڑھتے رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدگی کے ساتھ ایسا کرتے رہتے، اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان میں یہ بات بیان فرمائی ہے: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] تمہارا اس معاملے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے، خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا عذاب دے، بے شک وہ لوگ ظالم ہیں۔ اس میں اس بات کا بیان موجود نہیں ہے کہ کافروں پر لعنت کرنے کا حکم منسوخ ہے، کیونکہ اس آیت میں اس بات کی اطلاع دی گئی ہے کہ کفار کے خلاف قنوتِ نازلہ پڑھنا ایک ایسی چیز نہیں ہے جو ان کے بارے میں اس چیز سے بے نیاز کر دے جو ان کے خلاف فیصلہ ہو چکا ہے یا جو انہیں عذاب دیا جانا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے ذریعے انہیں توبہ کی توفیق مل جائے یا پھر وہ شرک پر ثابت قدم رہیں اور انہیں عذاب دیا جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ قنوتِ نازلہ پڑھنے کا حکم اس آیت کی وجہ سے منسوخ ہو گیا ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1988]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4069، 4559، 7346، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 622، 623، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1987، 1988، 5747، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1077، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3004، 3005، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5778» «رقم طبعة با وزير 1985»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - خ (4069 و 4070).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق حسن الحديث
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن حبيب الحارثي، أبو زكريا
Newيحيى بن حبيب الحارثي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 1988 in Urdu