صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
537. فصل في القنوت - ذكر البيان بأن ما وصفنا من التسبيح والتحميد والتكبير إنما أمر باستعماله في عقب الصلاة لا في الصلاة نفسها
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ تسبیح، تحمید اور تکبیر کا استعمال نماز کے بعد کرنے کا حکم ہے، نہ کہ خود نماز میں
حدیث نمبر: 2012
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهُمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ، هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا". قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، قَالَ: فَقَالَ:" خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ. وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ سَبَّحَ وَحَمَّدَ وَكَبَّرَ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ أُلْفِيَنَّ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ". قَالَ: كَيْفَ لا يُحْصِيهِمَا؟ قَالَ:" يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ، وَهُوَ فِي صَلاةٍ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، حَتَّى شَغَلَهُ، وَلَعَلَّهُ أَنْ لا يَعْقِلَ، وَيَأْتِيهِ فِي مَضْجَعِهِ فَلا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو خصوصیات ایسی ہیں کہ جو بھی مسلمان ان کو حاصل کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ کم ہیں: ہر نماز کے بعد دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی انگلیوں پر انہیں شمار کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے (روزانہ) ایک سو پچاس (150) ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے۔ اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ جب آدمی اپنے بستر پر جائے، تو (ایک سو مرتبہ) «سُبْحَانَ اللّٰهِ»، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھے، تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور نامہ اعمال میں ایک ہزار ہوں گے، تو تم میں سے کون شخص ایک دن میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہے؟“ راوی نے دریافت کیا: کوئی شخص ان دونوں پر عمل کیوں نہیں کر سکتا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، وہ یہ کہتا ہے: فلاں چیز کو یاد کرو، فلاں چیز کو یاد کرو، یہاں تک کہ اسے مصروف کر دیتا ہے (اور آدمی کو یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے تسبیح پڑھنی تھی)، اسی طرح شیطان اس کے بستر پر اس کے پاس آتا ہے، وہ اسے سلاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی (تسبیح پڑھے بغیر) سو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 843، 2012، 2018، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2012، 2013، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1347، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1502، 5065، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3410، 3411، 3486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 926، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6609، 7029، والحميدي فى (مسنده) برقم: 594» «رقم طبعة با وزير 2009»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الكلم الطيب» (112)، «تخريج المشكاة» (2406)، «صحيح أبي داود» (1346). * [يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ] قال الشيخ: أي اليمنى. انظر: «صحيح الأدب المفرد» (932). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط جرير وابن عُلَية سمعا من عطاء بن السائب بعد اختلاطه، لكن رواه عنه شعبة وسفيان الثوري، وهما ممن سمع منه قبل الاختلاط، فالحديث صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2012 in Urdu
السائب بن مالك الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي