صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
584. باب الإمامة والجماعة - فصل في فضل الجماعة - ذكر استغفار الملائكة لمصلي صلاة العصر والغداة في الجماعة
امام اور جماعت - جماعت کے بارے میں بیان - عصر اور صبح کی نماز جماعت سے پڑھنے والے کے لیے فرشتوں کی استغفار کا ذکر
حدیث نمبر: 2061
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ، إِذَا كَانَتْ صَلاةُ الْفَجْرِ نَزَلَتْ مَلائِكَةُ النَّهَارِ، فَشَهِدَتْ مَعَكُمُ الصَّلاةَ جَمِيعًا، وَصَعِدَتْ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلائِكَةُ النَّهَارِ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ. فَإِذَا كَانَ صَلاةُ الْعَصْرِ نَزَلَتْ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ، فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ مَلائِكَةُ النَّهَارِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ"، قَالَ:" فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟" قَالَ:" فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ". قَالَ:" فَحَسِبْتُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرشتے تمہارے درمیان آتے جاتے ہیں۔ فجر کی نماز ہوتی ہے، تو دن کے فرشتے نیچے اترتے ہیں (رات اور دن کے) سارے فرشتے تمہارے ساتھ اس نماز میں شریک ہوتے ہیں۔ پھر رات کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور دن کے فرشتے تمہارے ساتھ رک جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے، تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے۔ وہ عرض کرتے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ نماز ادا کر رہے تھے جب ہم انہیں چھوڑ کے آئے، تو بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔ پھر جب عصر کی نماز ہوتی ہے، تو رات کے فرشتے نیچے اتر جاتے ہیں اور وہ دن اور رات کے سارے فرشتے تمہارے ساتھ نماز میں شریک ہوتے ہیں پھر دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور رات کے فرشتے تمہارے ساتھ ٹھہر جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کا پروردگار ان سے دریافت کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ وہ فرماتا ہے تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ فرشتے عرض کرتے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ نماز ادا کر رہے تھے جب ہم انہیں چھوڑ کر آئے، تو بھی وہ نماز ادا کر رہے تھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) ”وہ فرشتے عرض کرتے ہیں، تو قیامت کے دن ان لوگوں کی مغفرت کر دینا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2058»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1733). تنبيه!! رقم (1733) = (1736) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي