🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
591. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الثالث وهو النسيان الذي يعرض في بعض الأحوال
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - تیسرے عذر کا ذکر جو بھول ہے جو بعض حالات میں پیش آتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2069
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلالٍ:" اكْلأْ لَنَا اللَّيْلَ". فَصَلَّى بِلالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الصُّبْحُ اسْتَسْنَدَ بِلالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ يُوَاجِهُ الْفَجْرَ، فَغَلَبَتْ بِلالا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَسْنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا بِلالٌ، وَلا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَيْ بِلالُ". فَقَالَ بِلالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" اقْتَادُوا رَوَاحِلَكُمْ". ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ، وَقَالَ: " مَنْ نَسِيَ الصَّلاةَ أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14" . وَقَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا: لِلذِّكْرَى. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِهَذَا الْخَبَرِ، وَقَالَ فِيهِ: خَيْبَرُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ خَيْبَرَ، إِنَّمَا أَسْلَمَ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، وَعَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعُ بْنُ عُرْفُطَةَ، فَإِنْ صَحَّ ذِكْرُ خَيْبَرَ فِي الْخَبَرِ فَقَدْ سَمِعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ صَحَابِيٍّ غَيْرِهِ، فَأَرْسَلَهُ كَمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الصَّحَابَةُ كَثِيرًا، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ حُنَيْنَ لا خَيْبَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ شَهِدَهَا وَشُهُودُهُ الْقِصَّةَ الَّتِي حَكَاهَا شُهُودُ صَحِيحٍ، وَالنَّفْسُ إِلَى أَنَّهُ حُنَيْنٌ أَمِيلُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آنے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ہمارے لیے رات کا دھیان رکھنا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے جو مقدر میں تھا وہ نماز ادا کرتے رہے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سو گئے۔ صبح صادق کا وقت قریب آیا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی اور صبح صادق والی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی بھی آنکھ لگ گئی، وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی شخص بیدار نہیں ہوا، یہاں تک کہ دھوپ نکل آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشان ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ کو نیند عطا کی تھی، اس نے مجھے بھی نیند کا شکار کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی سواریوں کو لے کر چل پڑو۔ (کچھ آگے جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کو بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے، تو جب وہ (نماز) اسے یاد آئے، تو وہ اسے ادا کر لے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] میرے ذکر کے لیے نماز کو قائم کرو۔ یونس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب اس لفظ کو یوں تلاوت کرتے تھے: «لِلذِّكْرَى» ۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن قتیبہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ خیبر کا واقعہ ہے، حالانکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں موجود تھے اور مدینہ منورہ کے نگران سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اگر اس روایت میں خیبر کا تذکرہ درست ہو، تو پھر یہ ہو سکتا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی دوسرے صحابی سے یہ روایت سنی ہو اور اسے «مُرْسَل» روایت کے طور پر نقل کر دیا ہو، جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکثر اس طرح کر دیا کرتے تھے۔ اور اگر اس سے مراد غزوہ حنین ہی ہو، غزوہ خیبر مراد نہ ہو، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس میں شریک ہوئے ہیں اور ان کے اس میں شریک ہونے کا واقعہ اور وہ واقعہ جو انہوں نے بیان کیا ہے یہ مستند طور پر ثابت ہے اور ذہن یہی کہتا ہے کہ یہ غزوہ حنین کا واقعہ ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 680، ومالك فى (الموطأ) برقم: 35، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 988، 999، 1118، 1252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1459، 2069، 2651، 2652، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 617، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 697، 1155، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9665» «رقم طبعة با وزير 2066»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (263).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس
Newالحسن بن سفيان الشيباني ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← الحسن بن سفيان الشيباني
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 2069 in Urdu