صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
592. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الرابع وهو السمن المفرط الذي يمنع المرء من حضور الجماعات
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - چوتھے عذر کا ذکر جو ضرورت سے زیادہ موٹاپا ہے جو آدمی کو جماعتوں میں شرکت سے روکتا ہے
حدیث نمبر: 2070
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَكَانَ ضَخْمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ الصَّلاةَ مَعَكَ، فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فِيهِ فَأَقْتَدِيَ بِكَ. فَصَنَعَ الرَّجُلُ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ، فَبَسَطَ لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: فَقَالَ فُلانُ بْنُ الْجَارُودِ، لأَنَسٍ:" أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ:" مَا رَأَيْتُهُ صَلاهَا غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے، جو خوب بھاری بھرکم تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں آپ کی اقتداء میں نماز کے لیے حاضر ہونے کی استطاعت نہیں رکھتا، اگر آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور وہاں نماز ادا کریں، تو میں آپ کی پیروی کروں گا (یعنی اس جگہ نماز ادا کر لیا کروں گا)۔ پھر ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر میں بلوایا۔ انہوں نے اپنی چٹائی کا کنارہ آپ کے لیے بچھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دو رکعات نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز ادا کرتے تھے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 670، 1179، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2070، 2309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 657، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3743، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12523» «رقم طبعة با وزير 2067»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (664): خ دون قوله: «فأقتدي بك».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، علي بن الجعد: ثقة من رجال البخاري، ومن فوقه على شرطهما.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥أنس بن سيرين الأنصاري، أبو موسى، أبو عبد الله، أبو حمزة أنس بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← أنس بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥علي بن الجعد الجوهري، أبو الحسن علي بن الجعد الجوهري ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت رمي بالتشيع | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← علي بن الجعد الجوهري | ثقة مأمون |
Sahih Ibn Hibban Hadith 2070 in Urdu
أنس بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري