صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
593. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر العذر الخامس وهو وجود المرء حاجة الإنسان في نفسه
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - پانچویں عذر کا ذکر جو آدمی کی اپنی ذاتی ضرورت کا ہونا ہے
حدیث نمبر: 2071
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الأَرْقَمِ ، كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ يَوْمًا، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدٌ الْغَائِطَ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلاةِ" .
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی امامت کیا کرتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت ہوا، وہ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر وہ واپس تشریف لائے اور انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی شخص کو پاخانہ کی ضرورت محسوس ہو، تو نماز سے پہلے اسے وہ (حاجت پوری) کر لینی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 550، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 932، 1652، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2071، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 601، وأبو داود فى (سننه) برقم: 88، والترمذي فى (جامعه) برقم: 142، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1467، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 616، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16205، 16662، والحميدي فى (مسنده) برقم: 896» «رقم طبعة با وزير 2068»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (80).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2071 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن أرقم القرشي